المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَافِرُونَ - سُورَةُ الْكَافِرُونَ بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ باب: تفسیر سورہ الکافرون - سورہ الکافرون شرک سے بیزاری کا ذریعہ ہے
حدیث نمبر: 4026
حدَّثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدَّثنا أبو جعفر الحَضْرمي، حدَّثنا أحمد بن يونُس، حدَّثنا زُهَير، عن أبي إسحاق، عن فَرْوة بن نوفل الأشجعي، عن أبيه، أنه قال للنبي ﷺ: مُرْني بشيءٍ أقولُه، فقال: "إذا أَوَيتَ إلى مَضجَعِك فاقرأ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ إلى خاتمتِها، فإنها بَراءةٌ من الشِّرْك" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3982 - صحيححافظ طلحہ بابر
نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جو میں (سوتے وقت) پڑھا کروں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] آخر تک پڑھ لیا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت (بیزاری) ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث حسن كما سلف برقم (2102). أبو جعفر الحضرمي: هو الحافظ محمد بن عبد الله بن سليمان المعروف بمطيَّن، وأحمد بن يونس: هو أحمد بن عبد الله بن يونس، نُسب إلى جدِّه، وزهير هو ابن معاوية الجُعْفيّ، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے جیسا کہ پہلے نمبر (2102) پر گزر چکا ہے۔ ابو جعفر حضرمی سے مراد "حافظ محمد بن عبد اللہ بن سلیمان" (مطین)، احمد بن یونس سے مراد "احمد بن عبد اللہ بن یونس" (دادا کی طرف منسوب)، زہیر سے مراد "ابن معاویہ جعفی" اور ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 49)، وأبو داود (5055)، والنسائي (10569) و (11645)، وابن حبان (790) من طرق عن زهير بن معاوية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (39/24009/49)، ابو داؤد (5055)، نسائی (10569، 11645) اور ابن حبان (790) نے زہیر بن معاویہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے جیسا کہ پہلے نمبر (2102) پر گزر چکا ہے۔ ابو جعفر حضرمی سے مراد "حافظ محمد بن عبد اللہ بن سلیمان" (مطین)، احمد بن یونس سے مراد "احمد بن عبد اللہ بن یونس" (دادا کی طرف منسوب)، زہیر سے مراد "ابن معاویہ جعفی" اور ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 49)، وأبو داود (5055)، والنسائي (10569) و (11645)، وابن حبان (790) من طرق عن زهير بن معاوية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (39/24009/49)، ابو داؤد (5055)، نسائی (10569، 11645) اور ابن حبان (790) نے زہیر بن معاویہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4026 سے ماخوذ ہے۔