حدیث نمبر: 3897
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن الفضل الصائغ بعَسْقلانَ، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حَريز بن عثمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَيسَرة، عن جُبير بن نُفير، عن بُسْر بن جِحَاش القُرَشي قال: تلا رسولُ الله ﷺ هذه الآية: ﴿فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ (36) عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ (37) أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ أَنْ يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ (38) كَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِمَّا يَعْلَمُونَ (39)﴾ ثم بَزَقَ رَسولُ اللهِ ﷺ على كفِّه فقال: " [يقول الله] (1): يا ابنَ آدم أنَّى تُعجِزُني وقد خلقتُك من مثلِ هذه، حتى إذا سوَّيتُك وعَدَلتُك، مشيتَ بين بُردَينِ وللأرض منك وَئِيدٌ - يعني شَكْوى - فَجَمَعتَ ومَنَعتَ (2)، حتى إذا بَلَغَت التَّراقيَ قلتَ (3): أتصدَّقُ، وأَنَّى أَوَانُ الصَّدقةِ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [71 - [تفسير سورة نوح]]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3855 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ (36) عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ (37) أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ أَنْ يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ (38) كَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِمَّا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة المعارج: 36-39] پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر تھوکا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اسی جیسی چیز (نطفہ) سے پیدا کیا ہے، یہاں تک کہ جب میں نے تجھے مکمل اور متوازن بنا دیا تو تو دو چادروں میں (اکڑ کر) زمین پر اس طرح چلنے لگا کہ زمین تیرے پاؤں کی چاپ سے کراہنے لگی، پھر تو نے مال جمع کیا اور اسے (حقداروں سے) روکا، یہاں تک کہ جب جان حلق تک پہنچ گئی تو تو کہنے لگا: اب میں صدقہ کرتا ہوں، حالانکہ اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3897
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة: وهو الحضرمي الشامي.» [ترقيم الرساله 3897] [ترقيم الشركة 3876] [ترقيم العلميه 3855]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين ليس في نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع و "شعب الإيمان" للبيهقي (3198) حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے، ہم نے اسے مطبوعہ نسخے اور بیہقی کی "شعب الایمان" (3198) سے ثابت کیا ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) في (ص) و (ع): فجمعت وسعيت.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "فجمعت وسعیت" ہے۔
(3) في (ز) و (ص) و (ع): وقلت، بالواو، وإسقاطها أوجهُ.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "وقلت" واؤ کے ساتھ ہے، اور اس کا گرانا زیادہ بہتر ہے۔
(4) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة: وهو الحضرمي الشامي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے عبد الرحمن بن میسرہ (الحضرمی الشامی) کی وجہ سے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17842 - 17845)، وابن ماجه (2707) من طرق عن حريز بن عثمان، بهذا الإسناد. ولم يذكروا فيه تلاوة الآية.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (29/17842-17845) اور ابن ماجہ (2707) نے حریز بن عثمان سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اس میں آیت کی تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
وسيأتي برقم (8112).
حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (8112) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3897 سے ماخوذ ہے۔