المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شأن آية ومن يتق الله يجعل له مخرجا الآية باب: آیتِ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 3861
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا كَهمَس بن الحسن القَيْسي، عن أبي السَّليل ضُرَيب بن نُقَير القَيْسي قال: قال أبو ذرٍّ: جَعَلَ رسولُ الله ﷺ يَتلُو هذه الآية: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطلاق: 2، 3]، قال: فجعل يردِّدُها حتى نَعَستُ، فقال: "يا أبا ذرٍّ، لو أنَّ الناس أَخَذوا بها لَكَفَتْهم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3819 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت تلاوت کرنے لگے: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطلاق: 2، 3] وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اسے بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ اس (آیت) کو اپنا لیں تو یہ ان کے (تمام معاملات کے) لیے کافی ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو السَّليل لم يدرك أبا ذر. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.
درجۂ حدیث: اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو السلیل نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ اسحاق بن ابراہیم سے مراد "ابن راہویہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21551)، وابن ماجه (4220)، والنسائي (11539) من طريقين عن كهمس بن الحسن، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (35/21551)، ابن ماجہ (4220) اور نسائی (11539) نے کہمس بن حسن سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو السلیل نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ اسحاق بن ابراہیم سے مراد "ابن راہویہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21551)، وابن ماجه (4220)، والنسائي (11539) من طريقين عن كهمس بن الحسن، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (35/21551)، ابن ماجہ (4220) اور نسائی (11539) نے کہمس بن حسن سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3861 سے ماخوذ ہے۔