حدیث نمبر: 3854
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبي سعيد الأَزْدي، حدثنا زيد بن أرقَمَ قال: غَزَوْنا مع رسول الله ﷺ، وكان معنا ناسٌ من الأعراب، فكنا نَبتدِرُ الماءَ، وكان الأعرابُ يَسبِقونا، فيَسبِقُ الأعرابيُّ أصحابَه فيملأُ الحوضَ، ويجعل حولَه حجارةً ويجعل النِّطعَ عليه حتى يجيءَ أصحابُه، فأتى رجلٌ من الأنصار الأعرابيَّ فأَرخَى زِمامَ ناقته لتشربَ، فأَبى أن يَدَعَه، فانتَزَع حَجَرًا ففاضَ، فرفع الأعرابيٌّ خشبةً فضرب بها رأسَ الأنصاري فشَجَّه، فأتى عبدَ الله بنَ أُبيٍّ رأسَ المنافقين فأخبره، وكان من أصحابه، فغَضِبَ عبدُ الله بن أُبي، ثم قال: لا تُنفِقوا على مَن عندَ رسول الله حتى ينفضُّوا من حوله؛ يعني: الأعرابَ، وكانوا يُحدِّثون رسولَ الله ﷺ عند الطعام، فقال عبد الله لأصحابه: إذا انفضُّوا من عندِ محمد، فأْتُوا محمدًا بالطعام (1) فليأكُلْ هو ومَن عندَه، ثم قال لأصحابه: إذا رجعتُم إلى المدينة، فليُخرِجِ (2) الأعزُّ منها الأذلَّ. قال زيد: وأنا رِدْفُ عمِّي، فسمعتُ عبدَ الله وكنَّا أخوالَه (3)، فأخبرتُ عمِّي، فانطلق فأَخبر رسولَ الله ﷺ، فأرسل إليه رسولُ الله ﷺ، فحَلَفَ وجَحَدَ، فَصَدَّقه رسولُ الله ﷺ وكذَّبني، فجاء إليَّ عمِّى فقال: ما أردتَ أنْ مَقَتَك رسولُ الله ﷺ وكذَّبَك (4) المسلمون، فوَقَعَ عليَّ من الغمِّ ما لم يَقَعْ على أحدٍ قطُّ. فبَيْنا أنا أسِيرُ مع رسول الله ﷺ في سفرٍ وقد خَفَقَتْ برأسي من الهمِّ، فأتاني رسول الله ﷺ فَعَرَكَ أُذُني وضحك في وجهي، فما كان يَسرُّني أَنَّ لي بها الخُلْدَ أو الدنيا، ثم إنَّ أبا بكر لَحِقَني، فقال: ما قال لك رسولُ الله ﷺ؟ قلت: ما قال لي رسول الله ﷺ شيئًا غيرَ أنْ عَرَكَ أُذني وضحك في وجهي، فقال: أَبشِرْ، ثم لَحِقَني عمر، فقلت له مثلَ قولي لأبي بكر. فلمّا أصبَحْنا قرأَ رسول الله ﷺ سورةَ المنافقين: ﴿قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ﴾ حتى بَلَغَ ﴿هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا﴾ حتى بَلَغَ ﴿لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ (1). قد اتَّفق الشيخان على إخراج أحرفٍ يسيرة من هذا الحديث من حديث أبي إسحاق السَّبِيعي عن زيد بن أرقمَ، وأخرج البخاري متابِعًا لأبي إسحاق من حديث شُعْبة عن الحَكَم عن محمد بن كعب القُرَظي عن زيد بن أرقمَ، ولم يُخرجاه بطوله، والإسناد صحيح. [64 - ومن تفسير سورة التغابن] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3812 - صحيح وأخرجا منه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک تھے اور ہمارے ساتھ کچھ اعرابی (دیہاتی) لوگ بھی تھے، ہم پانی حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، اعرابی ہم سے پہلے پہنچ کر اپنے ساتھیوں کے لیے حوض بھر لیتے اور اس کے گرد پتھر رکھ کر اوپر چمڑے کا دسترخوان (نطع) بچھا دیتے تاکہ ان کے دیگر ساتھی آ جائیں۔ اسی دوران ایک انصاری شخص ایک اعرابی کے پاس آیا اور اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی سکے، مگر اعرابی نے اسے روک دیا۔ انصاری نے ایک پتھر ہٹایا تو پانی بہہ نکلا، جس پر اعرابی نے لکڑی اٹھا کر انصاری کے سر پر ماری اور اسے زخمی کر دیا۔ وہ انصاری شخص منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا اور اسے سارا واقعہ سنایا۔ عبداللہ بن ابی غصے میں آ گیا اور کہنے لگا: ”ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس سے ہٹ جائیں۔“ یعنی ان اعرابیوں پر، اور وہ لوگ کھانا کھاتے وقت رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرتے تھے، تو عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”جب یہ لوگ محمد (ﷺ) کے پاس سے ہٹ جائیں، تو تم محمد (ﷺ) کے پاس کھانا لانا تاکہ وہ اور ان کے ساتھ والے کھا سکیں۔“ پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”اگر ہم مدینہ واپس لوٹے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔“ زید کہتے ہیں: میں اس وقت اپنے چچا کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، میں نے عبداللہ کی یہ باتیں سن لیں اور میں اس کا بھانجا تھا، چنانچہ میں نے اپنے چچا کو بتا دیا اور انہوں نے جا کر رسول اللہ ﷺ کو خبر دے دی۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو بلا بھیجا مگر اس نے قسمیں کھائیں اور انکار کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات سچ مان لی اور مجھے جھوٹا قرار دیا، تو میرے چچا نے مجھ سے کہا: تم نے تو یہی چاہا کہ رسول اللہ ﷺ تم سے ناراض ہو جائیں اور مسلمان تمہیں جھوٹا سمجھنے لگیں۔ یہ سن کر مجھے اتنا غم ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اسی دوران میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا اور میرا سر غم کی وجہ سے جھکا ہوا تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، آپ ﷺ نے میرا کان (محبت سے) ملا اور میرے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے، مجھے اس مسکراہٹ کے بدلے اگر دائمی زندگی یا پوری دنیا مل جاتی تب بھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا؟ میں نے کہا: آپ ﷺ نے کچھ نہیں فرمایا بس میرا کان ملا اور مسکرائے، انہوں نے کہا: خوشخبری ہو۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ ملے تو میں نے انہیں بھی ویسا ہی بتایا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سورہ منافقون کی تلاوت فرمائی: ﴿قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ﴾ سے لے کر ﴿هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا﴾ اور پھر ﴿لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] تک۔
شیخین نے اس حدیث کے کچھ مختصر جملے ابواسحاق سبیعی عن زید بن ارقم کی سند سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور امام بخاری نے شعبہ کی سند سے محمد بن کعب قرظی کی متابعت بھی بیان کی ہے، مگر انہوں نے اسے اس طوالت کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ یہ اسناد صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3854
درجۂ حدیث محدثین: غريب بهذا السياق
تخریج حدیث «غريب بهذا السياق، انفرد به السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - عن أبي سعيد الأزدي، والسدي صدوق حسن الحديث، إلّا أنَّ له أوهامًا تقع في بعض حديثه، وأبو سعيد - ويقال: أبو سعد - الأزدي ليس بذاك المشهور، روى عنه غير واحد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقد خولف في لفظه.» [ترقيم الرساله 3854] [ترقيم الشركة 3833] [ترقيم العلميه 3812]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ص) و (ع): للطعام.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "للطعام" کے الفاظ ہیں۔
(2) في (ز): ليخرجن.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "لیخرجن" ہے۔
(3) في (ص) و (ع): حوله، وهو تحريف.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "حولہ" ہے، جو کہ "تحریف" (غلطی) ہے۔
(4) تكررت هذه اللفظة في (ص) و (ع) و (ب).
نوٹ / توضیح: یہ لفظ نسخہ (ص)، (ع) اور (ب) میں مکرر آگیا ہے۔
(1) غريب بهذا السياق، انفرد به السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - عن أبي سعيد الأزدي، والسدي صدوق حسن الحديث، إلّا أنَّ له أوهامًا تقع في بعض حديثه، وأبو سعيد - ويقال: أبو سعد - الأزدي ليس بذاك المشهور، روى عنه غير واحد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقد خولف في لفظه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ "غریب" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سُدّی (جو کہ اسماعیل بن عبد الرحمن ہیں) اس روایت کو ابو سعید الازدی سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔ سُدّی صدوق اور حسن الحدیث ہیں مگر ان کی بعض احادیث میں اوہام پائے جاتے ہیں۔ اور ابو سعید (جنہیں ابو سعد بھی کہا جاتا ہے) الازدی زیادہ مشہور نہیں ہیں، ان سے ایک سے زائد راویوں نے روایت لی ہے، لیکن ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں ہے، اور ان کے الفاظ میں مخالفت بھی کی گئی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3313) عن عبد بن حميد، عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3313) نے عبد بن حمید سے، انہوں نے عبید اللہ بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
وأخرج أصل الحديث دون قصة الأعراب والأنصاري: أحمد 32/ (19285) و (19295)، والبخاري (4902)، والترمذي (3314)، والنسائي (11533) من طريق محمد بن كعب القرظي، وأحمد (19333) و (19334)، والبخاري (4900) و (4901) و (4903)، ومسلم (2772)، والترمذي (3312)، والنسائي (11534) من طريق أبي إسحاق السبيعي، والنسائي (11530) من طريق عبد الرحمن بن أبي ليلى، ثلاثتهم عن زيد بن أرقم.
حوالہ / مصدر: اس حدیث کی اصل (اعرابی اور انصاری کے قصے کے بغیر) کو احمد (32/19285، 19295)، بخاری (4902)، ترمذی (3314) اور نسائی (11533) نے محمد بن کعب قرظی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز احمد (19333، 19334)، بخاری (4900، 4901، 4903)، مسلم (2772)، ترمذی (3312) اور نسائی (11534) نے ابو اسحاق سبیعی کے طریق سے، اور نسائی (11530) نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ تینوں (محمد بن کعب، ابو اسحاق، عبد الرحمن) اسے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
وقد أشار جابر في حديثه - كما عند أحمد 23/ (15223) والبخاري (4905) وغيرهما - إلى أنَّ الخلاف كان قد وقع بين المهاجرين والأنصار بسبب أنَّ رجلًا من المهاجرين كَسَعَ رجلًا من الأنصار - أي: ضربه على دُبُره - فقال عبد الله بن أُبيّ ما قال.
تفصیلِ روایت: سیدنا جابر نے اپنی حدیث میں اشارہ کیا ہے - جیسا کہ احمد (23/15223) اور بخاری (4905) وغیرہ میں ہے - کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف اس وجہ سے ہوا تھا کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کو "کسع" کیا (یعنی اس کی سرین پر مارا)، جس پر عبد اللہ بن ابی (منافق) نے وہ بکواس کی جو اس نے کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3854 سے ماخوذ ہے۔