حدیث نمبر: 3848
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد بن مَزْيَد، أخبرني أَبي، حدثنا الأوزاعي. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام قال: اجْتَمَعْنا فتذاكَرْنا فقلنا: أيُّكم يأتي رسولَ الله ﷺ يسألُه: أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله؟ ثم تفرَّقْنا وهِبْنا أن يأتيَه منا أحدٌ، فأرسَلَ إلينا رسولُ الله ﷺ فَجَمَعَنا، فجعل يُومِئُ بعضنا إلى بعض، فقرأ علينا رسولُ الله ﷺ: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (1) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2)﴾ إلى آخر السورة (1). قال أبو سَلَمة: فقرأَها علينا عبدُ الله بن سَلَام من أولها إلى آخرها، قال يحيى: فقرأَها علينا أبو سَلَمة من أولها إلى آخرها، قال الأوزاعي: فقرأَها علينا يحيى بن أبي كثير من أولها إلى آخرها، قال أبو إسحاق الفَزَاري: وقرأها علينا الأوزاعي من أولها إلى آخرها، قال معاوية بن عمرو: وقرأَها علينا أبو إسحاق الفَزَاري من أولها إلى آخرها، قال محمد بن أحمد الأزْدي: وقرأها علينا معاويةُ بن عمرو من أولها إلى آخرها، قال أبو بكر بن بالَوَيهِ: وقرأها علينا محمد بن أحمد بن النَّضْر من أولها إلى آخرها. قال الحاكم: وأنا أقول: قرأها علينا أبو بكر بن بالَوَيهِ من أولها إلى آخرها. وقد قرأها علينا الحاكمُ أبو عبد الله من أولها إلى آخرها.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سب جمع ہوئے اور آپس میں تذکرہ کرنے لگے کہ ہم میں سے کون رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر یہ پوچھے گا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سے اعمال سب سے زیادہ محبوب ہیں؟ پھر ہم ڈر کے مارے منتشر ہو گئے کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ سوال کرنے کی ہمت نہ کر سکا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف پیغام بھیجا اور ہمیں جمع کر لیا، ہم ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (1) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ [سورة الصف: 1، 2] سورت کے آخر تک۔ ابوسلمہ نے کہا: عبداللہ بن سلام نے یہ پوری سورت ہمیں شروع سے آخر تک سنائی، یحییٰ نے کہا: ابوسلمہ نے ہمیں پوری سورت سنائی، اوزاعی نے کہا: یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں پوری سورت سنائی، ابواسحاق فزاری نے کہا: اوزاعی نے ہمیں پوری سورت سنائی، معاویہ بن عمرو نے کہا: ابواسحاق فزاری نے ہمیں پوری سورت سنائی، محمد بن احمد ازدی نے کہا: معاویہ بن عمرو نے ہمیں پوری سورت سنائی، ابوبکر بن بالویہ نے کہا: محمد بن احمد بن نضر نے ہمیں پوری سورت سنائی۔ امام حاکم فرماتے ہیں: اور میں کہتا ہوں کہ ابوبکر بن بالویہ نے ہمیں شروع سے آخر تک سنائی، اور ہمیں حاکم ابوعبداللہ نے شروع سے آخر تک سنائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3848
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،معاوية بن عمرو: هو ابن المهلّب الأزدي المعنيّ، وأبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، والأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو. وقد سلف برقم (2418) من طريق محبوب بن موسى عن الفزاري.» [ترقيم الرساله 3848] [ترقيم الشركة 3827]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. معاوية بن عمرو: هو ابن المهلّب الأزدي المعنيّ، وأبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، والأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو. وقد سلف برقم (2418) من طريق محبوب بن موسى عن الفزاري.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: معاویہ بن عمرو سے مراد "ابن مہلب ازدی معنی" ہیں، ابو اسحاق فزاری سے مراد "ابراہیم بن محمد بن حارث" ہیں، اور اوزاعی سے مراد "عبد الرحمن بن عمرو" ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (2418) پر محبوب بن موسیٰ کے طریق سے گزر چکی ہے جنہوں نے فزاری سے روایت کیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3848 سے ماخوذ ہے۔