المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
خُصُوصِيَّةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِتَقْدِيمِ صَدَقَةِ النَّجْوَى باب: حضرت علیؓ کی خصوصیت کہ انہوں نے نجویٰ کی صدقہ پیش کیا
حدثني أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا عمرو بن محمد العَنقَزي، حدثنا إسرائيل، حدثنا سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان رسول الله ﷺ في ظلِّ حُجْرة وقد كاد الظلُّ أن يَتقلَّص، فقال رسول الله ﷺ: "إنه سيأتيكم إنسانٌ فيَنظُرُ إليكم بعَيْن شيطانٍ، فإذا جاءَكم فلا تُكلِّموه"، فلم يَلبَثوا أنْ طَلَعَ عليهم رجلٌ أزرقُ أعورُ، فقال: حينَ رآه دَعَاه رسولُ الله ﷺ، فقال: "عَلَامَ تَشتِمُني أنت وأصحابُك؟ " فقال: ذَرْني آتِكَ بهم، فانطَلَق فدعاهم، فحَلَفوا ما قالوا وما فعلوا، حتى تَجوَّز (1)، فأنزل الله ﷿: ﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ﴾ [المجادلة: 18] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3795 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور سایہ سکڑنے کے قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس ابھی ایک ایسا انسان آئے گا جو تمہیں شیطان کی آنکھ سے دیکھے گا، جب وہ آئے تو تم اس سے کلام نہ کرنا،“ تھوڑی ہی دیر میں ایک نیلی آنکھوں والا بھینگا شخص نمودار ہوا، رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو بلایا اور فرمایا: ”تم اور تمہارے ساتھی مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ اس نے کہا: آپ مجھے چھوڑیں میں ابھی انہیں لے کر آتا ہوں، وہ گیا اور انہیں بلا لایا، انہوں نے آ کر قسمیں کھائیں کہ انہوں نے نہ ایسا کچھ کہا ہے اور نہ کیا ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان سے درگز فرمایا، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَوْمَ يبعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ﴾ [المجادلة: 18]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں لفظ 'زای' کی جگہ 'نون' لکھا گیا ہے جو کہ کاتبوں کی غلطی ہے۔ اصل لفظ "تجوَّز" ہے جس کا معنی ہے "تجاوز" (درگزر کرنا)۔ یہی لفظ امام طبرانی کی "المعجم الکبیر" (12307) کی روایت میں بھی موجود ہے، جس کے الفاظ ہیں: "حتی تجاوز عنہم" (یہاں تک کہ ان سے درگزر کر دیا گیا)۔
(2) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب.
درجۂ حدیث: اس کی سند سماک بن حرب کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 5/ (3277) عن أبي أحمد الزبيري ويحيى بن أبي بكير، عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے 5/ (3277) میں ابواحمد زبیری اور یحییٰ بن ابی بکیر کے واسطے سے اسرائیل کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا 4 / (2147) و (2407) من طريقين عن سماك، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد ہی نے اسے 4/ (2147) اور (2407) میں دو مختلف طرق سے سماک بن حرب کے واسطے سے روایت کیا ہے۔