المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ -نُزُولُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ فِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ باب: تفسیرِ سورۃ المجادلہ — اوس بن صامت کے واقعے میں کفارۂ ظہار کا نزول
حدثنا الشيخ أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا محمد بن أبي عُبيدة بن مَعْن المسعودي، حدثني أَبي، عن الأعمش، عن تميم بن سَلَمة، عن عُرْوة قال: قالت عائشة: تَبارَكَ الذي وَسِعَ سمعُه كلَّ شيء، إني لأسمعُ كلامَ خولةَ بنت ثَعْلبة ويخفى عليَّ بعضُه وهي تشتكي زوجَها إلى رسول الله ﷺ، وهي تقول: يا رسول الله، أَكَلَ شبابي، ونَثَرتُ له بطني، حتى إذا كَبِرَت سِنِّي وانقَطَع له ولدي، ظاهَرَ منِّي، اللهمَّ إني أشكُو إليك، قالت عائشة: فما بَرِحَت حتى نَزَلَ جبريل ﵇ بهؤلاء الآيات: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [المجادلة:1]. قال: وزوجُها أَوسُ بن الصامت (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة ﵂ مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3791 - صحيحسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر چیز پر محیط ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ کی باتیں سن رہی تھی جبکہ وہ اپنے شوہر کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کر رہی تھیں اور ان کی بعض باتیں مجھ پر مخفی رہ جاتی تھیں، وہ کہہ رہی تھیں: اے اللہ کے رسول! اس (شوہر) نے میری جوانی کھا لی، اور میں نے اس کے لیے اپنا پیٹ بچھا دیا (یعنی کثرت سے اولاد ہوئی)، یہاں تک کہ جب میری عمر زیادہ ہو گئی اور میری اولاد کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تیرے ہی حضور اپنی فریاد اور شکایت پیش کرتی ہوں،“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ ابھی اپنی جگہ سے ہٹی بھی نہ تھیں کہ جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ ”یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے تکرار کر رہی تھی۔“ [المجادلة: 1] اور ان کے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز یہ ہشام بن عروہ کی اپنے والد سے اور ان کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں مختصراً بھی بیان ہوا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن عبداللہ حضرمی ایک مشہور حافظِ حدیث ہیں جو "مطین" کے لقب سے معروف ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2063) عن أبي بكر بن أبي شيبة، عن محمد بن أبي عبيدة، بهذا الإسناد. وأخرجه بنحوه أحمد 40 / (24195)، وابن ماجه (188)، والنسائي (5625) و (11506) من طريقين عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2063) نے ابوبکر بن ابی شیبہ عن محمد بن ابی عبیدہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (40/ 24195)، ابن ماجہ (188) اور امام نسائی (5625 اور 11506) نے اعمش کے دو طریقوں سے اس کے ہم معنی روایت تخریج کی ہے۔