المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَوَاهِدُ حَدِيثِ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ باب: چاند کے شق ہونے سے متعلق حدیث کے شواہد
حدیث نمبر: 3801
فحدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمِصر، حَدَّثَنَا أبو داود الطَّيَالسي، حَدَّثَنَا شُعْبة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن عبد الله بن عَمرو في قوله ﷿: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ قال: قد كان ذلك على عهد النَّبِيِّ ﷺ، انشقَّ فِلقَتَين، فِلقةً من دون الجبل، وفِلقةً خلفَ الجبل، فقال النَّبِيّ ﷺ: "اللهمَّ اشهَدْ" (3). وأما حديث جُبير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3759 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ”قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا“ [سورة القمر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں پیش آیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف نظر آ رہا تھا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ تمام شواہد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح لكن من حديث مجاهد عن عبد الله بن عُمر بن الخطاب، والذي وهمَ في تسمية صحابيه هو إبراهيم بن مرزوق، فإنه على ثقته كان يخطئ أحيانًا فيقال له فلا يرجع كما ذكر الدارقطني، وقد خالفه غير واحد عن أبي داود الطيالسي فرووه من حديث ابن عمر على الجادَّة، كيونس بن حبيب في "مسند الطيالسي" (2003)، وكذلك رواه غير الطيالسي عن شعبة فجعلوه من حديث ابن عُمر. وأخرجه كذلك الترمذي (2182) و (3288) عن محمود بن غيلان، عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے لیکن یہ مجاہد عن عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے۔
فنی نکتہ / علّت: صحابی کا نام لینے میں ابراہیم بن مرزوق کو وہم ہوا ہے؛ وہ ثقہ ہونے کے باوجود کبھی غلطی کر جاتے تھے اور رجوع نہیں کرتے تھے (جیسا کہ دارقطنی نے کہا)۔ ابو داؤد طیالسی کے دیگر شاگردوں (جیسے یونس بن حبیب) نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے ابن عمر کی حدیث بتایا ہے (جو اصل راستہ/جادّہ ہے)۔ اسی طرح شعبہ کے دیگر شاگردوں نے بھی اسے ابن عمر سے روایت کیا۔
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2182، 3288) نے محمود بن غیلان عن ابو داؤد طیالسی سے روایت کیا۔
وأخرجه مسلم (2801)، وابن حبان (6496) من طرق عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2801) اور ابن حبان (6496) نے شعبہ کے طرق سے روایت کیا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے لیکن یہ مجاہد عن عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے۔
فنی نکتہ / علّت: صحابی کا نام لینے میں ابراہیم بن مرزوق کو وہم ہوا ہے؛ وہ ثقہ ہونے کے باوجود کبھی غلطی کر جاتے تھے اور رجوع نہیں کرتے تھے (جیسا کہ دارقطنی نے کہا)۔ ابو داؤد طیالسی کے دیگر شاگردوں (جیسے یونس بن حبیب) نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے ابن عمر کی حدیث بتایا ہے (جو اصل راستہ/جادّہ ہے)۔ اسی طرح شعبہ کے دیگر شاگردوں نے بھی اسے ابن عمر سے روایت کیا۔
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2182، 3288) نے محمود بن غیلان عن ابو داؤد طیالسی سے روایت کیا۔
وأخرجه مسلم (2801)، وابن حبان (6496) من طرق عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2801) اور ابن حبان (6496) نے شعبہ کے طرق سے روایت کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3801 سے ماخوذ ہے۔