حدیث نمبر: 3764
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا أحمد بن مَهْدي، حَدَّثَنَا بِشْر بن شعيب بن أبي حمزة، حدثني أَبي، عن الزُّهْري قال: أخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر: أنه بَيْنا هو جالسٌ مع عبد الله بن عمر جاءَه رجل من أهل العراق فقال: يا أبا عبد الرحمن، إني والله لقد حَرَصتُ أن أتسمَّتَ بسَمْتِك، وأَقتديَ بك في أَمر فُرْقةِ الناس، وأعتزلَ الشرَّ ما استطعتُ، وإني أَقرأُ آيةً من كتاب الله مُحكَمةً قد أخَذَت بقلبي، فأخبِرني عنها: أرأيتَ قولَ الله ﷿: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [الحجرات: 9]، أخبِرْني عن هذه الآية، فقال عبد الله بن عمر: وما لكَ ولذلكَ؟ انصرِفْ عنِّي، فقام الرجلُ فانطَلَق، حتَّى إذا توارى عنّا (1) سَوَادُه أَقبل إلينا عبدُ الله بن عمر، فقال: ما وجدتُ في نفسي في شيء من أمر هذه الآية، ما وجدتُ في نفسي أني لم أُقاتِلْ هذه الفِئةَ الباغيةَ كما أَمَرني الله (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3722 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ عراق سے ایک شخص آیا اور عرض گزار ہوا: ”اے ابوعبدالرحمن! اللہ کی قسم، میں نے پوری حرص کی کہ آپ کی روش اختیار کروں، تفرقہ بازی کے معاملے میں آپ کی پیروی کروں اور جہاں تک ممکن ہو سکے شر سے کنارہ کش رہوں، لیکن میں اللہ کی کتاب میں ایک ایسی محکم آیت پڑھتا ہوں جس نے میرے دل کو (فکر میں) جکڑ رکھا ہے، پس آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں: اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ ”اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“ [سورة الحجرات: 9] کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟“ اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تمہارا اس معاملے سے کیا تعلق؟ میرے پاس سے چلے جاؤ“، چنانچہ وہ شخص اٹھا اور چلا گیا، یہاں تک کہ جب وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”مجھے اپنے نفس میں اس آیت کے معاملے میں جتنی خلش (اور افسوس) محسوس ہوا، اتنا کسی اور چیز پر نہیں ہوا کہ میں نے اس باغی گروہ کے خلاف قتال کیوں نہ کیا جیسا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا تھا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3764
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وسيأتي مكررًا برقم (4648).» [ترقيم الرساله 3764] [ترقيم الشركة 3743] [ترقيم العلميه 3722]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في نسخنا الخطية: إذا توارينا، والمثبت من نسخة المحمودية كما في طبعة الميمان ومن مكرره الآتي برقم (4648)، وهو الموافق لما في "سنن البيهقي" 8/ 172.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "اذا توارینا" ہے، لیکن نسخہ محمودیہ (طبع میمنیہ) اور آگے آنے والی مکرر حدیث (4648) اور "سنن بیہقی" (8/ 172) کے موافق متن کو ثابت رکھا گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح. وسيأتي مكررًا برقم (4648).
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے اور یہ نمبر (4648) پر مکرر آئے گی۔
وأخرجه البيهقي 8/ 172 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (8/ 172) نے ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي أيضًا، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 31/ 193 من طرق عن الزهري، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (31/ 193) میں زہری کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3764 سے ماخوذ ہے۔