المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر
أخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر الدارَبردي وأبو محمد الحسن بن محمد الحَلِيمي بمَرْو قالا: حَدَّثَنَا أبو الموجَّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت عن أم العلاء الأنصارية - وقد كانت بايَعَت رسولَ الله ﷺ قالت: طارَ لنا عثمانُ بن مَظْعون في السُّكَنَى حين أَقرَعَت الأنصارُ على سُكنَى المهاجرين، قالت فاشتَكي فمرَّضْناه حتَّى توفِّي، حتَّى جعلناه في أثوابه، قالت: فدخل رسولُ الله ﷺ، فقلت: رحمةُ الله عليك أبا السائب، فشهادَتي أنْ قد أكرَمَك الله، فقال النَّبِيّ ﷺ: "وما يُدريكِ؟ " قالت: لا أدري والله يا رسول الله، قال: "أمَّا هو فقد جاءَه اليقينُ، وإني لأرجُو له الخيرَ من الله"، ثم تلا رسول الله ﷺ: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ﴾ [الأحقاف: 9]، قالت أم العلاء: والله لا أُزكِّي أحدًا بعدَه أبدًا. قالت أم العلاء: ورأيتُ لعثمان في النوم عَينًا تجري، فجئتُ رسولَ الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فقال: "ذاكِ عملُه يَجْري له" (1).
هذا حديث قد اختَلَف الشيخانِ في إخراجه فرواه البخاري عن عَبْدان مختصرًا، ولم يُخرجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3696 - تقدم وهو في البخاري مختصراسیدہ ام العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، انہوں نے کہا: جب انصار نے مہاجرین کی رہائش کے لیے قرعہ اندازی کی تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے ہاں قیام کے لیے نکلا، پھر وہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی تیمارداری کی یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے اور ہم نے انہیں ان کے کفن کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے (میت کو مخاطب کر کے) کہا: اے ابوسائب! تم پر اللہ کی رحمت ہو، میری گواہی ہے کہ اللہ نے یقیناً تمہارا اکرام فرمایا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، میں نہیں جانتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ان کا تعلق ہے تو ان کے پاس یقین (موت) آ چکا ہے، اور میں ان کے لیے اللہ سے بھلائی کی امید رکھتا ہوں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا“ [سورة الأحقاف: 9]، ام العلاء کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے بعد اب کبھی کسی کی (قطعی) پاکیزگی بیان نہیں کروں گی۔ ام العلاء کہتی ہیں کہ میں نے خواب میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ان کا عمل ہے جو ان کے لیے جاری ہے“۔
اس حدیث کی روایت میں شیخین کا اختلاف ہے؛ امام بخاری نے اسے عبدان سے مختصراً روایت کیا ہے جبکہ امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الموُجِّہ سے مراد محمد بن عمرو فزاری، عبدان سے مراد عبد اللہ بن عثمان مروزی اور عبد اللہ سے مراد ابن مبارک ہیں۔
وأخرجه البخاري (7018) عن عبدان، بهذا الإسناد بطوله، وليس كما ذكر المصنّف بأنه مختصر.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (7018) نے عبدان سے اسی سند کے ساتھ طوالت سے روایت کیا ہے، نہ کہ مختصر (جیسا کہ مصنف نے ذکر کیا)۔
وأخرجه النسائي (7587) عن سويد بن نصر، عن عبد الله بن المبارك، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (7587) نے سوید بن نصر عن ابن مبارک سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27458) عن عبد الرزاق، عن معمر، به. وانظر ما سلف برقم (1416).
حوالہ / مصدر: اسے احمد (45/ 27458) نے عبد الرزاق عن معمر سے روایت کیا۔ سابقہ نمبر (1416) بھی دیکھیں۔