المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَىٰ مَا مَاتَ عَلَيْهِ باب: ہر بندہ (قیامت کے دن) اسی حال میں اٹھایا جائے گا جس حال میں اسے موت آئی تھی
حدیث نمبر: 3731
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حَدَّثَنَا أحمد بن مَنِيع، حَدَّثَنَا أبو يوسف القاضي يعقوب بن إبراهيم، حَدَّثَنَا مُطرِّف، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان الرجلُ من العرب يَعبُد الحجرَ، فإذا وَجَدَ أحسنَ منه أخَذَه وألقى الآخَر، فأنزل الله ﷿: ﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ [الجاثية: 23] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3689 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عرب کا کوئی آدمی کسی پتھر کی عبادت کرتا تھا، پھر جب اسے اس سے بہتر پتھر مل جاتا تو وہ پہلے والے کو پھینک دیتا اور دوسرے کو (معبود بنا کر) پکڑ لیتا، پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ ”بھلا کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔“ [الجاثية: 23]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح على وهمٍ وقع هنا في نسبة جعفر، والصواب أنه جعفر بن أبي المغيرة لا جعفر بن إياس، فإنَّ مطرِّفًا - وهو ابن طريف الحارثي - لا يعرف إلّا بروايته عن جعفر بن أبي المغيرة، وجعفر هذا من الثقات، وكذا جعفر بن إياس - وهو ابن أبي وحشية - ثقة معروف بالرواية عن سعيد بن جبير كابن أبي المغيرة، بل هو أشهر.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، البتہ اس میں جعفر کی نسبت میں وہم ہوا ہے؛ درست "جعفر بن ابی مغیرہ" ہے نہ کہ "جعفر بن ایاس"۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ یہ ہے کہ مطرف (ابن طریف حارثی) صرف جعفر بن ابی مغیرہ سے روایت کرنے میں پہچانے جاتے ہیں۔ جعفر بن ابی مغیرہ ثقہ راوی ہیں۔ اسی طرح جعفر بن ایاس (ابن ابی وحشیہ) بھی ثقہ ہیں اور سعید بن جبیر سے روایت میں معروف ہیں، بلکہ وہ زیادہ مشہور ہیں۔
وأخرجه النسائي (11421) من طريق موسى بن أعيَن، عن مطرِّف، عن جعفر - ولم ينسبه - عن سعيد بن جبير، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11421) نے موسیٰ بن اعین عن مطرف عن جعفر (بغیر نسبت کے) عن سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، البتہ اس میں جعفر کی نسبت میں وہم ہوا ہے؛ درست "جعفر بن ابی مغیرہ" ہے نہ کہ "جعفر بن ایاس"۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ یہ ہے کہ مطرف (ابن طریف حارثی) صرف جعفر بن ابی مغیرہ سے روایت کرنے میں پہچانے جاتے ہیں۔ جعفر بن ابی مغیرہ ثقہ راوی ہیں۔ اسی طرح جعفر بن ایاس (ابن ابی وحشیہ) بھی ثقہ ہیں اور سعید بن جبیر سے روایت میں معروف ہیں، بلکہ وہ زیادہ مشہور ہیں۔
وأخرجه النسائي (11421) من طريق موسى بن أعيَن، عن مطرِّف، عن جعفر - ولم ينسبه - عن سعيد بن جبير، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11421) نے موسیٰ بن اعین عن مطرف عن جعفر (بغیر نسبت کے) عن سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3731 سے ماخوذ ہے۔