المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى باب: جو تھوڑا ہو مگر کافی ہو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے
حدثني أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حَدَّثَنَا محمد بن الفَرَج، حَدَّثَنَا حجَّاج بن محمد، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، حَدَّثَنَا أبو إسحاق، عن أبي جُحَيفة، عن علي قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أصاب ذنبًا، في الدنيا، فعُوقِبَ به، فالله أعدلُ من أن يُثنِّيَ عقوبتَه على عبدِه، ومَن أذنب ذنبًا، فَسَتَرَ اللهُ عليه وعَفَا عنه، فاللهُ أكرمُ من أن يعودَ في شيءٍ عَفَا عنه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وإنما أخرجه إسحاقُ بن إبراهيم (3) عند قوله ﷿: ﴿وَمَا أَصَابَكُم مَّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ [الشورى: 30].
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3664 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اسے اس کی سزا مل گئی، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ اپنے بندے کو (ایک ہی گناہ کی) دوبارہ سزا دے، اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا اور اسے معاف فرما دیا، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ اس چیز کی طرف دوبارہ رجوع کرے جسے وہ معاف کر چکا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ اسحاق بن ابراہیم نے اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا أَصَابَكُم مَّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ [سورة الشورى: 30] کے تحت روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند یونس بن ابی اسحاق اور محمد بن فرج (ابو بکر ازرق) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن فرج کی متابعت سابقہ حدیث نمبر (13) میں گزر چکی ہے۔ یہ حدیث آگے نمبر (7871) اور (8364) پر مکرر آئے گی۔
(3) يعني في "تفسيره"، وإسحاق بن إبراهيم هذا: هو الإمام المعروف بابن راهويه.
نوٹ / توضیح: مراد ان کی "تفسیر" میں ہے۔ اسحاق بن ابراہیم سے مراد مشہور امام ابن راہویہ ہیں۔