حدیث نمبر: 3703
أخبرنا أبو الحسين أحمد عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث، حَدَّثَنَا هشام بن أبي عبد الله، حَدَّثَنَا قَتَادة، وتلا قول الله ﷿: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرَّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِن يُنَزَّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ﴾ [الشورى: 27]، فقال: حَدَّثَنَا خُلَيد بن عبد الله العَصَري، عن أبي الدَّرداء، عن النَّبِيّ ﷺ، قال: "ما طَلَعَت شمسٌ قطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنَبَتيها مَلَكان، إنهما ليُسمِعانِ أهلَ الأرض إلَّا الثَّقَلَين: يا أيها الناسُ، هَلُمُّوا إلى ربِّكم، فإنَّ ما قلَّ وكفى خيرٌ مما كَثُرَ وأَلهى، ولا غَرَبَت شمسٌ قطُّ إِلَّا وبجَنَبَتيها مَلَكانِ يناديان: اللهمَّ عجَّلْ لمُنفِقٍ خَلَفًا، وعَجَّلْ لمُمسِكَ تَلَفًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3662 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاءُ﴾ [سورة الشورى: 27] کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”کبھی سورج طلوع نہیں ہوا مگر اس کے دونوں اطراف دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں، جو جن و انس کے سوا تمام زمین والوں کو سناتے ہیں: اے لوگو! اپنے رب کی طرف آ جاؤ، کیونکہ جو تھوڑا ہو اور (ضرورت کے لیے) کافی ہو جائے، وہ اس زیادہ سے بہتر ہے جو (حق سے) غافل کر دے، اور کبھی سورج غروب نہیں ہوا مگر اس کے دونوں اطراف دو فرشتے پکارتے ہیں: «اللَّهُمَّ عَجِّلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا» ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل جلد عطا فرما اور بخل کرنے والے کے مال کو جلد برباد کر دے۔“ “
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3703
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل خليد العصري
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل خليد العصري، وأبو قلابة الرقاشي» [ترقيم الرساله 3703] [ترقيم الشركة 3683] [ترقيم العلميه 3662]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل خليد العصري، وأبو قلابة الرقاشي - وهو عبد الملك بن محمد البصري - لا بأس به قوي الحديث.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے جس کی وجہ خلید العصری ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: راوی ابو قلابہ الرقاشی (جن کا نام عبد الملک بن محمد البصری ہے) میں کوئی حرج نہیں، وہ قوی الحدیث ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (21721)، وابن حبان (686) و (3329) من طرق عن قتادة بهذا الإسناد - ولم يذكروا فيه التلاوة، وهي مما انفرد به عبد الصمد عن هشام بن أبي عبد الله الدَّستوائي، فقد رواه عن هشام أبو داود الطيالسي في "مسنده" (1072)، وابنه معاذ الدستوائي عند الطبري في "تهذيب الآثار - مسند ابن عبّاس" 1/ 267 و 269 وابن السُّني في "القناعة" (32)، فلم يذكرا في حديثه التلاوة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/ 21721) اور ابن حبان (686 اور 3329) نے قتادہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں آیت کی تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
فنی نکتہ / علّت: تلاوت کا ذکر صرف عبد الصمد کا تفرد ہے جو انہوں نے ہشام بن ابی عبد اللہ دستوائی سے نقل کیا، کیونکہ ہشام سے ابو داؤد طیالسی نے اپنی "مسند" (1072) میں اور ان کے بیٹے معاذ دستوائی نے (بحوالہ طبری: تہذیب الآثار 1/ 267، 269) اور ابن السنی نے "القناعۃ" (32) میں روایت کیا تو انہوں نے اس حدیث میں تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
ويشهد لآخره في الدعاء للمنفق والممسك حديث أبي هريرة عند البخاري (1442) ومسلم (1010)، لكن بذكر الإصباح مكان الغروب.
متابعات و شواہد: حدیث کے آخری حصے (خرچ کرنے والے اور روکے رکھنے والے کے لیے دعا) کی تائید سیدنا ابو ہریرہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (1442) اور مسلم (1010) میں ہے، لیکن اس میں غروب کی جگہ صبح (اصباح) کا ذکر ہے۔
الجَنَبَة: الجانب والناحية. والثَّقلان: الإنس والجن.
نوٹ / توضیح: "الجنبہ" کا معنی ہے: جانب اور کنارہ۔ اور "الثقلان" سے مراد انسان اور جنات ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3703 سے ماخوذ ہے۔