المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَلْيَقُلْ عَلَى إِثْرِهَا الْحَمْدُ لِلَّهِ باب: جو لا إله إلا الله کہے وہ اس کے بعد الحمد لله بھی کہے
حدیث نمبر: 3681
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السّرِي بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن يزيد عن أبي السَّمْح، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ: "لو أنَّ رصاصةً من هذه مِثلَ هذه - وأشار إلى مثل الجُمجُمة - أُرسِلَت من السماء إلى الأرض، وهي مَسيرةُ خمسِ مئة سنةٍ، لبَلَغَت الأرضَ قبلَ الليل"، وتلا رسولُ الله ﷺ: ﴿إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ﴾ الآيات [غافر: 71] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [41 - ومن تفسير (حم) السجدة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3640 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس کی طرح کی سیسے کی کوئی گولی - اور آپ ﷺ نے ایک کھوپڑی کی طرف اشارہ کیا - آسمان سے زمین کی طرف چھوڑی جائے، جو کہ پانچ سو سال کی مسافت ہے، تو وہ رات ہونے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گی“، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ﴾ ”جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی، وہ گھسیٹے جائیں گے۔“ [سورة غافر: 71]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لتفرُّد أبي السمح به - وهو درَّاج - فهو إنما يعتبر بحديثه في المتابعات والشواهد. سعيد بن يزيد: هو الحميري القَتْباني.
درجۂ حدیث: "ابو سمح" (دراج) کے تفرد کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے، ان کی حدیث صرف متابعات اور شواہد میں معتبر ہوتی ہے۔
نوٹ / توضیح: سعید بن یزید سے مراد حمیری قتبانی ہیں۔
وأخرجه أحمد (11/ 6856) و (6857)، والترمذي (2588) من طريق عبد الله بن المبارك، عن سعيد بن يزيد بهذا الإسناد. ولم يذكر التلاوة، وحسَّنه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11/ 6856، 6857) اور ترمذی (2588) نے عبد اللہ بن مبارک کے طریق سے سعید بن یزید سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے (تلاوت کے ذکر کے بغیر)، اور ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
درجۂ حدیث: "ابو سمح" (دراج) کے تفرد کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے، ان کی حدیث صرف متابعات اور شواہد میں معتبر ہوتی ہے۔
نوٹ / توضیح: سعید بن یزید سے مراد حمیری قتبانی ہیں۔
وأخرجه أحمد (11/ 6856) و (6857)، والترمذي (2588) من طريق عبد الله بن المبارك، عن سعيد بن يزيد بهذا الإسناد. ولم يذكر التلاوة، وحسَّنه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11/ 6856، 6857) اور ترمذی (2588) نے عبد اللہ بن مبارک کے طریق سے سعید بن یزید سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے (تلاوت کے ذکر کے بغیر)، اور ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3681 سے ماخوذ ہے۔