حدیث نمبر: 3657
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن عِيَاض بن عبد الله بن سعد، عن أبي سعيد الخُدْري أنه قال: قرأَ رسول الله ﷺ (ص) وهو على المِنبَر، فلما بَلَغَ السجدةَ، نَزَلَ فَسَجَدَ وسَجَدَ الناسُ معه، فلما كان يومٌ آخرُ قرأَها، فلما بلغ السجدةَ تهيَّأَ الناسُ للسجود، قال رسول الله ﷺ: "هي توبةُ نبيٍّ، ولكني رأيتُكم تهيَّأتُم للسجود"، فنزل وسجد وسجدوا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3615 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر سورت ﴿ص﴾ تلاوت فرما رہے تھے، جب آپ ﷺ سجدے کے مقام پر پہنچے تو منبر سے نیچے تشریف لائے، سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر کسی دوسرے دن آپ ﷺ نے دوبارہ اسے تلاوت فرمایا اور جب سجدے والی آیت پر پہنچے تو لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک نبی (سیدنا داؤد علیہ السلام) کی توبہ ہے، لیکن میں نے دیکھا کہ تم سجدے کے لیے تیار ہو گئے ہو“، پھر آپ ﷺ نیچے تشریف لائے، سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3657
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عمرو بن الحارث: هو أبو أمية المصري.» [ترقيم الرساله 3657] [ترقيم الشركة 3636] [ترقيم العلميه 3615]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. عمرو بن الحارث: هو أبو أمية المصري.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ عمرو بن حارث سے مراد ابو امیہ مصری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1410)، وابن حبان (2765) من طريقين عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (1064).
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1410) اور ابن حبان (2765) نے عبد اللہ بن وہب کے واسطے سے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ (1064) میں گزرنے والی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3657 سے ماخوذ ہے۔