المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
حِكَايَةُ ذَهَابِ الصَّخْرَةِ بِثِيَابِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے غسل کے وقت ان کے کپڑے لے کر چٹان کے چلے جانے کا واقعہ
أخبرني محمد بن موسى الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن عمرو بن أبي مَذْعُور، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شُعبة، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: ﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا﴾ [الأحزاب: 72]، قال: قيل لآدم: أتأخذُها بما فيها، فإن أطعتَ غَفَرتُ، وإن عصيتَ حذَّرتُك؟ قال: قَبِلتُ، قال: فما كان إلَّا كما بينَ صلاةِ العصر إلى أن غَرَبَت الشمسُ حتَّى أصابَ الذَّنْبَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3580 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب فرمایا: ﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا﴾ [سورة الاحزاب: 72] تو آدم علیہ السلام سے کہا گیا: کیا تم اسے اس کی شرائط کے ساتھ لیتے ہو کہ اگر تم نے اطاعت کی تو میں بخش دوں گا اور اگر نافرمانی کی تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں نے قبول کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پس عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا ہی وقت گزرا تھا کہ ان سے وہ خطا سرزد ہو گئی۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: محمد بن عمرو بن ابی مذعور کو ابن حبان اور دارقطنی نے ثقہ کہا ہے (تاریخ بغداد 4/ 219)، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ خالد بن حارث سے مراد ہجیمی ابو عثمان بصری، اور ابو بشر سے مراد جعفر بن ابی وحشیہ ہیں۔
وأخرجه الطبري (22/ 54) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری (22/ 54) نے محمد بن جعفر کے طریق سے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي آخره بنحوه برقم (4037) من طريق عمار البجلي عن سعيد بن جبير.
نوٹ / توضیح: اس کا آخری حصہ اسی طرح آگے نمبر (4037) پر عمار بجلی عن سعید بن جبیر کے طریق سے آئے گا۔