المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَوَاهِدُ حَدِيثِ لَا طَلَاقَ إِلَّا بنِكَاحٍ باب: حدیث ”نکاح کے بغیر طلاق نہیں“ کی تائیدی روایات
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي قال: سمعتُ فِطْر بن خَليفة يحدِّث عن الحسن بن مسلم بن يَنَّاق، عن طاووس، عن ابن عبَّاس: أنه تلا قولَ الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ﴾ [الأحزاب: 49]، قال: فلا يكون طلاقٌ حتى يكونَ نكاحٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم: أنا متعجِّبٌ من الشيخين الإمامين كيف أهمَلا هذا الحديثَ ولم يُخرجاه في "الصحيحين"، فقد صحَّ على شرطهما حديثُ ابن عمر وعائشة وعبد الله بن عبَّاس ومعاذ بن جَبَل وجابر بن عبد الله (2). فأمَّا حديثُ عبد الله بن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3567 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ﴾ [سورة الاحزاب: 49] کی تلاوت کی اور فرمایا: ”طلاق تبھی ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح ہو چکا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں: مجھے ان دو اماموں (بخاری و مسلم) پر حیرت ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو نظر انداز کیسے کر دیا اور اسے اپنی صحیحین میں روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں کی شرط پر ابن عمر، عائشہ، ابن عباس، معاذ بن جبل اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث صحیح ثابت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اور پہلے گزر چکا نمبر (2857) دیکھیں۔
(2) بل هي أحاديث معلَّة كما سيأتي بيانه، فلا تعجُّب إذًا من فعل الشيخين.
فنی نکتہ / علّت: بلکہ یہ احادیث "معلول" (علت والی) ہیں جیسا کہ آگے بیان ہوگا، لہٰذا شیخین (بخاری و مسلم) کے عمل پر کوئی تعجب نہیں (کہ انہوں نے اسے کیوں چھوڑ دیا)۔