المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
جَمْعُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَهْلَ بَيْتِهِ وَقَوْلُهُ : " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي " باب: نبی ﷺ کا اپنے اہلِ بیت کو جمع کرنا اور یہ فرمانا: اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد بن مَزيَد، أخبرني أبي، قال: سمعتُ الأوزاعيَّ يقول: حدثني أبو عمَّار، قال: حدثني واثلةُ بن الأسقَعِ قال: جئتُ أريد عليًّا فلم أجِدْه، فقالت فاطمةُ: انطلَقَ إلى رسول الله يَدعُوه، فاجلِسْ، فجاء مع رسول الله ﷺ فدخل ودخلتُ معهما، قال: فدعا رسولُ الله ﷺ حسنًا وحسينًا فأجلسَ كلَّ واحد منهما على فَخذِه، وأدنى فاطمةَ من حِجْره وزوجَها، ثم لفَّ عليهم ثوبَه وأنا شاهدٌ، فقال: " ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾، اللهمَّ هؤلاءِ أهلُ بيتي، اللهمَّ أهلي أحقُّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تلاش میں آیا تو وہ گھر پر نہیں تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ رسول اللہ ﷺ کو بلانے گئے ہیں، آپ تشریف رکھیں،“ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ہر ایک کو اپنی ایک ایک ران پر بٹھایا، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر (علی رضی اللہ عنہ) کو اپنے قریب کیا اور ان سب پر اپنی چادر تان لی، میں یہ سب دیکھ رہا تھا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، اے اللہ! میرے یہ گھر والے زیادہ حقدار ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو عمار سے مراد شداد بن عبد اللہ (معاویہ کے غلام) ہیں۔
وأخرجه أحمد (28/ 16988)، وابن حبان (6976) من طرق عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. وقع في بعض الروايات في آخره - كما عند ابن حبان وغيره -: قال واثلة: فقلت من ناحية البيت: وأنا يا رسول الله من أهلِك؟ قال: "وأنت من أهلي"، قال واثلة: إنها لَمِن أرجى ما أَرتجي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (28/ 16988) اور ابن حبان (6976) نے اوزاعی کے واسطے سے کئی طرق سے تخریج کیا ہے۔ بعض روایات (جیسے ابن حبان) کے آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ واثلہ نے کہا: میں نے گھر کے کونے سے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے اہل سے ہوں؟ فرمایا: "تم بھی میرے اہل سے ہو۔" واثلہ کہتے ہیں: یہ میری سب سے بڑی امیدوں میں سے ہے۔
وسيأتي الحديث عند المصنف برقم (4757).
نوٹ / توضیح: یہ حدیث مصنف کے ہاں آگے نمبر (4757) پر آئے گی۔
قال السندي في حاشيته على "المسند": قوله: "وأهل بيتي أحق" أي: بهذه الكرامة، وهي إذهاب الرجس والتطهير.
نوٹ / توضیح: سندھی کہتے ہیں: "میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں" کا مطلب ہے: اس کرامت (رجس دور کرنے اور پاکیزگی) کے زیادہ حقدار ہیں۔