المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّمْلِ - صُورَةُ جُلُوسِ سُلَيْمَانَ لِلْحُكُومَةِ باب: سورۂ النمل کی تفسیر: حضرت سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ گاہ میں بیٹھنے کا منظر
حدیث نمبر: 3567
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، عن الزُّبير بن الخِرِّيت، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: كان الهُدهُدُ يدلُّ سليمانَ على الماء، فقلت: وكيف ذاكَ والهُدهُدُ يُنصَبُ له الفخُّ يُلقَى عليه الترابُ؟ فقال: أعضَّكَ اللهُ بهَنِ أبيك (2) - ولم يَكْنِ - إذا جاء القضاءُ ذهب البصرُ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہدہد (پانی کی تلاش میں) سیدنا سلیمان علیہ السلام کی رہنمائی کرتا تھا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ ہدہد کے لیے تو جال بچھایا جاتا ہے اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے (تب اسے وہ جال کیوں نظر نہیں آتا)؟ تو انہوں نے (سخت لہجے میں) فرمایا: جب قضا (تقدیر) آ جاتی ہے تو بصارت جاتی رہتی ہے (یعنی بندہ اندھا ہو جاتا ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية: "أهتك الله بعض أبيك"، وهو خطأ، والصواب ما أثبتناه من "التلخيص" ومن "القضاء والقدر" للبيهقي (494) حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه، وكذا هو في "تاريخ دمشق" لابن عساكر حيث رواه من طريق البيهقي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "أهتك الله بعض أبيك" لکھا ہے جو غلطی ہے۔ درست وہ ہے جو ہم نے "التلخیص" اور بیہقی کی "القضاء والقدر" (494) سے ثابت کیا ہے، اور اسی طرح ابن عساکر کی تاریخ میں بھی ہے۔
والهَنُ: الذَّكر، وقوله: "ولم يَكْن" أي: ذكره باسمه المعروف به ولم يسمِّه بغيره.
نوٹ / توضیح: "الہَنُ" سے مراد شرمگاہ ہے۔ اور "ولم يَكْن" کا مطلب ہے کہ اسے اس کے معروف نام سے ذکر کیا اور کنایہ نہیں کیا۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "القضاء والقدر" (494)، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 22/ 267 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه اللالكائي في "أصول الاعتقاد" 4/ 743 من طريق إسحاق بن راهويه، عن سليمان بن حرب، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "القضاء والقدر" (494) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (22/ 267) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ نیز لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (4/ 743) میں اسحاق بن راہویہ کے طریق سے سلیمان بن حرب سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه عبد الله بن أحمد في "السنة" (900) و (931)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 9/ 2859 من طريق أسامة بن زيد، عن عكرمة، به. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "السنۃ" (900، 931) اور ابن ابی حاتم نے "تفسیر" (9/ 2859) میں اسامہ بن زید کے طریق سے عکرمہ سے تخریج کیا ہے۔ اگلی روایت بھی دیکھیں۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "أهتك الله بعض أبيك" لکھا ہے جو غلطی ہے۔ درست وہ ہے جو ہم نے "التلخیص" اور بیہقی کی "القضاء والقدر" (494) سے ثابت کیا ہے، اور اسی طرح ابن عساکر کی تاریخ میں بھی ہے۔
والهَنُ: الذَّكر، وقوله: "ولم يَكْن" أي: ذكره باسمه المعروف به ولم يسمِّه بغيره.
نوٹ / توضیح: "الہَنُ" سے مراد شرمگاہ ہے۔ اور "ولم يَكْن" کا مطلب ہے کہ اسے اس کے معروف نام سے ذکر کیا اور کنایہ نہیں کیا۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "القضاء والقدر" (494)، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 22/ 267 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه اللالكائي في "أصول الاعتقاد" 4/ 743 من طريق إسحاق بن راهويه، عن سليمان بن حرب، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "القضاء والقدر" (494) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (22/ 267) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ نیز لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (4/ 743) میں اسحاق بن راہویہ کے طریق سے سلیمان بن حرب سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه عبد الله بن أحمد في "السنة" (900) و (931)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 9/ 2859 من طريق أسامة بن زيد، عن عكرمة، به. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "السنۃ" (900، 931) اور ابن ابی حاتم نے "تفسیر" (9/ 2859) میں اسامہ بن زید کے طریق سے عکرمہ سے تخریج کیا ہے۔ اگلی روایت بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3567 سے ماخوذ ہے۔