حدیث نمبر: 3557
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن أيوب العلَّاف بمِصر، حدثنا محمد بن الحسن بن أبي الحسن المخزومي بالمدينة، حدثني عبد الله بن الحارث بن الفُضَيل الخَطْمي، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا دخلتُم بيوتَكم فسَلِّموا على أهلها، وإذا طَعِمْتُم فاذكُروا اسمَ الله، وإذا سَلَّم أحدُكم حين يدخلُ بيتَه وذَكَرَ اسمَ الله على طعامه يقول الشيطانُ لأصحابه: لا مَبِيتَ لكم ولا عَشاءَ، وإذا لم يُسلِّمْ أحدُكم ولم يَذكُرِ اسمَ الله على طعامه يقول الشيطانُ لأصحابه: أدركتُم المبيتَ والعَشاءَ" (1).
هذا حديث غريب الإسناد والمتن في هذا الباب، ومحمد بن الحسن المخزومي أَخشى أنه ابن زَبَالةَ، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في رجبٍ سنة أربع مئة: [25 - ومن تفسير سورة الفرقان] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3515 - غريب_x000D_ حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي رَجَبٍ سَنَةَ أَرْبَعِ مِائَةٍ
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کیا کرو، اور جب کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام ذکر کرو، پس جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرتا ہے اور اپنے کھانے پر اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: «لَا مَبِيتَ لَكُم وَلَا عَشَاءَ» ”تمہارے لیے (یہاں) نہ رات گزارنے کا ٹھکانہ ہے اور نہ رات کا کھانا،“ اور جب تم میں سے کوئی (داخل ہوتے وقت) سلام نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے کھانے پر اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: «أَدرَكتُمُ المَبِيتَ وَالعَشَاءَ» ”تم نے رات کا ٹھکانہ اور کھانا پا لیا۔“
یہ حدیث اس باب میں سند اور متن کے لحاظ سے غریب ہے، اور محمد بن حسن مخزومی کے متعلق مجھے اندیشہ ہے کہ وہ ابن زبالہ ہے، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے رجب سن 400 ہجری میں یہ املاء کروایا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3557
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، محمد بن الحسن المخزومي هذا: هو ابن زَبَالة، وهو متروك الحديث متَّهم بالكذب، ثم إنَّ الحارث بن فضيل لم يدرك جابرًا. وقد انفرد المصنف بهذا الحديث سندًا وسياقًا.» [ترقيم الرساله 3557] [ترقيم الشركة 3536] [ترقيم العلميه 3515]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف، محمد بن الحسن المخزومي هذا: هو ابن زَبَالة، وهو متروك الحديث متَّهم بالكذب، ثم إنَّ الحارث بن فضيل لم يدرك جابرًا. وقد انفرد المصنف بهذا الحديث سندًا وسياقًا.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/سخت ضعیف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں محمد بن حسن مخزومی سے مراد "ابن زبالہ" ہے، جو کہ متروک الحدیث اور جھوٹ کا ملزم (متہم بالکذب) ہے۔ مزید برآں حارث بن فضیل نے حضرت جابر کا زمانہ نہیں پایا (اس لیے سند منقطع بھی ہے)۔ اور مصنف (امام حاکم) اس سند اور سیاق کے ساتھ اس حدیث کو لانے میں منفرد ہیں۔
وقد صحَّ من حديث أبي الزبير عن جابر أنه سمع النبي ﷺ يقول: "إذا دخل الرجل بيته فذَكَر اللهَ عند دخوله وعند طعامه قال الشيطان: لا مبيت لكم ولا عشاء، وإذا دخل فلم يَذكُر اللهَ عند دخوله، قال الشيطان: أدركتم المبيت، وإذا لم يَذكُر اللهَ عند طعامه قال: أدركتم المبيت والعشاء". أخرجه أحمد (23/ 15108)، ومسلم (2018)، وأبو داود (3765)، وابن ماجه (3887)، والنسائي (6724)، وابن حبان (819).
درجۂ حدیث: البتہ یہ حدیث ابو زبیر کے طریق سے حضرت جابر سے "صحیح" ثابت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: "جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو شیطان (اپنے لشکر سے) کہتا ہے: تمہارے لیے نہ رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ شام کا کھانا۔ اور جب وہ داخل ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پالی، اور جب وہ کھانے کے وقت (بھی) ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رہائش اور کھانا دونوں پالیا۔"
حوالہ / مصدر: اسے احمد (23/ 15108)، مسلم (2018)، ابو داود (3765)، ابن ماجہ (3887)، نسائی (6724)، اور ابن حبان (819) نے تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3557 سے ماخوذ ہے۔