حدیث نمبر: 3521
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق؛ قالا: أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا يونس بن سُلَيم، قال: أَملَى عليَّ يونسُ بن يزيد الأَيْلي صاحبُ الزُّهْري، عن ابن شِهاب، عن عُروة بن الزُّبير، عن عبد الرحمن بن عبدٍ القارِيِّ قال: سمعت عمرَ بن الخطَّاب يقول: كان رسول الله ﷺ إذا نَزَلَ عليه الوحيُ سُمِع عنده دَوِيٌّ كدَوِيِّ النَّحل، فمَكَثْنا ساعةً، فاستقبل القِبلَة ورفع يديه فقال: "اللهمَّ زِدْنا ولا تَنْقُصْنا، وأكرِمْنا ولا تُهِنَّا، وأعطِنا ولا تَحرِمْنا، وآثِرْنا ولا تُؤثِرْ علينا، وارضَ عنّا وأَرْضِنا"، ثم قال: "لقد أُنزِلَ عليَّ عشرُ آيات مَن أقامهنَّ دَخَلَ الجنة"، ثم قرأ: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ الآيات (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3479 - سئل عبد الرزاق عن شيخه ذا فقال لا أظنه شيء
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ کے پاس شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنائی دیتی تھی۔ ہم ایک گھڑی ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَارْضَ عَنَّا وَأَرْضِنَا» ”اے اللہ! ہمیں زیادہ عطا فرما اور ہمیں کم نہ کر، ہمیں عزت دے اور ہمیں رسوا نہ کر، ہمیں عطا فرما اور ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں ترجیح دے اور ہم پر (کسی اور کو) ترجیح نہ دے، ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں راضی کر دے،“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر دس ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ جس نے انہیں (اپنی زندگی میں) قائم کر لیا وہ جنت میں داخل ہو گیا،“ پھر آپ ﷺ نے ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 1-2] سے (دسویں آیت) تک تلاوت فرمائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3521
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة يونس بن سُليم. إسحاق: هو ابن راهويه. وقد سلف برقم (1982) من طريق أحمد بن حنبل وإسحاق بن إبراهيم الدَّبري عن عبد الرزاق.» [ترقيم الرساله 3521] [ترقيم الشركة 3500] [ترقيم العلميه 3479]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة يونس بن سُليم. إسحاق: هو ابن راهويه. وقد سلف برقم (1982) من طريق أحمد بن حنبل وإسحاق بن إبراهيم الدَّبري عن عبد الرزاق.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند یونس بن سلیم کی "جہالت" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ اسحاق: ابن راہویہ۔ یہ (1982) پر احمد بن حنبل اور اسحاق الدبری عن عبد الرزاق کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وأخرجه النسائي (1443) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن راهويه - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1443) نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3521 سے ماخوذ ہے۔