المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أَحَادِيثُ السَّجْدَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْحَجِّ باب: سورۂ حج کے دو سجدوں سے متعلق احادیث
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا زهير بن محمد العَنبَري، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل بن أبي طالب، عن علي بن الحسين: ﴿لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ﴾ [الحج: 67]، قال: ذِبْحٌ هم ذابِحُوه. حدَّثَني أبو رافع: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا ضحَّى اشترى كبشَينِ سمينَينِ أملَحَينِ أقرَنَين، فإذا خَطَبَ وصلَّى ذبح أحدَ الكبشين بنفسه بالمُدْية ثم يقول: "اللهمَّ هذا عن أمَّتي جميعًا، مَن شَهِدَ لك بالتوحيد، وشَهِدَ لي بالبَلَاغ"، ثم أتى بالآخر فذَبَحَه وقال: "اللهمَّ هذا عن محمدٍ وآل محمدٍ"، ثم يُطعِمُهما المساكينَ ويأكلُ هو وأهلُه منهما، فمَكَثْنا سنينَ قد كَفَانَا اللهُ الغُرْمَ والمَؤونَة، ليس أحدٌ من بني هاشم يضحِّي (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [23 - ومن سورة المؤمنين]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3478 - سهيل ذو مناكير وابن عقيل ليس بالقوي_x000D_
حَدَّثَنِي أَبُو رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، فَإِذَا خَطَبَ وَصَلَّى ذَبَحَ أَحَدَ الْكَبْشَيْنِ بِنَفْسِهِ بِالْمُدْيَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ» ، ثُمَّ أَتَى بِالْآخَرِ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ» ثُمَّ يُطْعِمُهُمَا الْمَسَاكِينَ وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا فَمَكَثْنَا سِنِينَ قَدْ كَفَانَا اللَّهُ الْغُرْمَ وَالْمَئُونَةَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ﴾ [سورة الحج: 67] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) قربانی ہے جسے وہ ذبح کرنے والے ہیں۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قربانی فرماتے تو دو موٹے تازے، چتکبرے (سفید و سیاہ رنگت والے) اور سینگوں والے مینڈھے خریدتے، جب آپ ﷺ خطبہ اور نماز سے فارغ ہو جاتے تو ان میں سے ایک مینڈھا خود اپنے ہاتھ سے چھری کے ساتھ ذبح فرماتے اور کہتے: ”اے اللہ! یہ میری پوری امت کی طرف سے ہے جس نے تیری توحید کی گواہی دی اور میری طرف سے (دین پہنچانے کی) تبلیغ کی گواہی دی،“ پھر دوسرا مینڈھا لایا جاتا تو اسے ذبح کرتے اور فرماتے: ”اے اللہ! یہ محمد اور آلِ محمد (ﷺ) کی طرف سے ہے،“ پھر آپ ﷺ ان دونوں کا گوشت مسکینوں کو کھلاتے اور خود بھی اور اپنے اہل خانہ بھی اس میں سے کھاتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم سالہا سال اسی حال میں رہے کہ اللہ نے ہمیں قرض اور خرچ سے کفایت دی اور بنی ہاشم میں سے کوئی (علیحدہ) قربانی نہیں کرتا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن محمد بن عقیل صرف "متابعات و شواہد" میں معتبر ہیں، اور وہ اس سیاق میں "منفرد" ہیں۔ نیز ان پر اس حدیث کی سند اور متن میں طرح طرح کا اختلاف کیا گیا ہے جیسا کہ "مسند احمد" (41/ 25046) میں حدیثِ عائشہ پر تعلیق میں وضاحت ہے۔
ثم إنَّ هذا الإسناد منقطع بين علي بن الحسين - وهو ابن علي بن أبي طالب - وبين أبي رافع مولى النبي ﷺ، وما وقع من التصريح بسماعه من هنا من أوهام ابن عقيل، فإنَّ علي بن الحسين لم يدرك أبا رافع ولعله وُلد بعدما تُوفِّي.
فنی نکتہ / علّت: پھر یہ سند علی بن حسین (زین العابدین) اور ابو رافع (مولیٰ النبی) کے درمیان "منقطع" ہے۔ یہاں سماع کی تصریح ابن عقیل کے "اوہام" میں سے ہے، کیونکہ علی بن حسین نے ابو رافع کا زمانہ نہیں پایا، شاید وہ ان کی وفات کے بعد پیدا ہوئے۔
وقد أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" بزهير فقال: ذو مناكير، وبابن عقيل، فقال: ليس بقوي. قلنا: آفته ابن عقيل، وأما زهير فثقة وهو متابع.
درجۂ حدیث: ذہبی نے "تلخیص" میں زہیر (ذو مناکیر) اور ابن عقیل (لیس بقوی) کو علت قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں: اصل آفت "ابن عقیل" ہے، زہیر "ثقہ" ہے اور "متابع" ہے۔
وأخرجه أحمد (45/ 27190) عن أبي عامر العقدي - وهو عبد الملك بن عمرو - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (45/ 27190) نے ابو عامر العقدی (عبد الملک بن عمرو) سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا بنحوه (39/ 23860) من طريق شريك النخعي، و (45/ 27191) من طريق عبيد الله بن عمرو الرقي، كلاهما عن عبد الله بن محمد بن عقيل، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے (39/ 23860) شریک النخعی سے اور (45/ 27191) عبید اللہ بن عمرو الرقی سے، دونوں نے عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7738) من طريق ابن عقيل عن أبي سلمة عن عائشة أو أبي هريرة. كما سيأتي من طريق ابن عقيل عن عبد الرحمن بن جابر عن أبيه جابر بن عبد الله ضمن تخريج الحديث (7744).
نوٹ / توضیح: یہ مصنف کے ہاں (7738) پر ابن عقیل عن ابی سلمہ عن عائشہ (یا ابی ہریرہ) آئے گی، اور (7744) کی تخریج کے ضمن میں ابن عقیل عن عبد الرحمٰن بن جابر عن ابیہ بھی آئے گی۔
وسيأتي برقم (7745) من طريق ابن أبي رافع، عن أبيه، عن جده، قال: ذبح رسول الله ﷺ أضحيّته ثم قال: "اللهم هذا عني وعن أمتي". وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك.
نوٹ / توضیح: یہ (7745) پر ابن ابی رافع عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے آئے گی کہ: "رسول اللہ ﷺ نے قربانی ذبح کی اور فرمایا: اے اللہ یہ میری اور میری امت کی طرف سے ہے"۔ تفصیل وہاں دیکھیں۔