المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
فُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ بِسَجْدَتَيْنِ باب: سورۂ حج کو دو سجدوں کی فضیلت حاصل ہے
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة. وأخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا إسحاق بن عيسى، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثني مِشرَح بن هاعانَ، قال: سمعت عُقْبةَ بن عامر يقول: قلت: يا رسول الله أفُضِّلَت سورةُ الحج بسجدتين؟ قال: "نعم، فمَن لم يَسجُدْهما فلا يَقرأْهما" (2).
هذا حديث لم نكتبه مُسنَدًا إلَّا من هذا الوجه، وعبد الله بن لَهِيعة بن عُقْبة الحَضرَمي أحد الأئمة، إنما نُقِمَ عليه اختلاطُه في آخر عمره، وقد صحَّت الروايةُ فيه من قول عمر بن الخطَّاب وعبد الله بن عبَّاس وعبد الله بن عمر وعبد الله بن مسعود وأبي موسى وأبي الدَّرداء وعمَّار. أما حديث عمر بن الخطَّاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3470 - صحت الرواية في هذا من قول عمرو طائفةسیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا سورہ حج کو دو سجدوں کے ذریعے (دوسری سورتوں پر) فضیلت دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پس جو شخص ان دونوں سجدوں کو نہ کرے وہ ان (سجدے والی آیات) کو نہ پڑھے۔“
ہم نے اس حدیث کو مسنداً صرف اسی سند سے لکھا ہے، اور عبداللہ بن لہیعہ بن عقبہ الحضرمی ائمہ میں سے ایک ہیں، ان پر صرف ان کی عمر کے آخری حصے میں حافظہ کے اختلاط کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے، جبکہ اس (سورہ حج میں دو سجدے ہونے) کی روایت سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابو موسیٰ، سیدنا ابو الدرداء اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہم کے اقوال سے صحیح ثابت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (2) یہ اپنے طرق و شواہد کی بنا پر "حسن" ہے، سوائے اس ٹکڑے کے: "جو ان (آیات) میں سجدہ نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے"۔ یہ (900) پر گزر چکی ہے۔