المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
نَّارُ جَهَنَّمَ سَوْدَاءُ لَا يُضِيءُ لَهِيبُهَا وَلَا جَمْرُهَا باب: جہنم کی آگ سیاہ ہے، نہ اس کا شعلہ روشن ہے اور نہ اس کا انگارہ
حدیث نمبر: 3502
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن موسى بن عِمران الفقيه من أصل كتابه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو هاشم زياد بن أيوب، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعْبة، عن السُّدِّي، عن مُرَّة، عن عبد الله بن مسعود رَفَعَه، في قول الله ﷿: ﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾، قال: "لو أنَّ رجلًا هَمَّ فيه بإلحادٍ وهو بعدَنِ أَبْيَنَ، لَأذاقه اللهُ عذابًا أليمًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3461 - يزيد بن هارون أنا شعبة عن السدي عن مرة عن عبد الله رفعه على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [سورة الحج: 25] کے متعلق فرمایا: ”اگر کوئی شخص اس (حرم) میں کج روی (گناہ) کا ارادہ کرے جبکہ وہ عدن ابین میں ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دردناک عذاب چکھائے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل السَّدِّي، إلَّا أنه كان يخطئ فيه فيرفعه أحيانًا كما في رواية شعبة، والصواب وقفه كما في رواية غير شعبة عنه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند سدی کی وجہ سے "حسن" ہے، مگر وہ غلطی سے کبھی اسے مرفوع کر دیتے تھے (جیسے شعبہ کی روایت میں)، صحیح اس کا "وقف" ہونا ہے۔
وأخرجه أحمد (7/ 4071) وغيره عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. قال يزيد: قال لي شعبة: ورفعه - يعني السدي - ولا أرفعه لك.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (7/ 4071) نے یزید بن ہارون سے روایت کیا ہے۔ یزید کہتے ہیں شعبہ نے مجھ سے کہا: "سدی نے اسے مرفوع کیا مگر میں تمہارے لیے مرفوع نہیں کرتا"۔
ورواه سفيانُ الثوري عند ابن أبي شيبة 8/ 376، والطبري في "تفسيره" 17/ 141 - 142، ويحيى بن أبي أنيسة عند الأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 136، كلاهما عن السُّدِّي، به موقوفًا، وهو المحفوظ.
حوالہ / مصدر: اسے سفیان الثوری اور یحییٰ بن ابی انیسہ نے سدی سے "موقوفاً" روایت کیا ہے، اور یہی "محفوظ" ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند سدی کی وجہ سے "حسن" ہے، مگر وہ غلطی سے کبھی اسے مرفوع کر دیتے تھے (جیسے شعبہ کی روایت میں)، صحیح اس کا "وقف" ہونا ہے۔
وأخرجه أحمد (7/ 4071) وغيره عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. قال يزيد: قال لي شعبة: ورفعه - يعني السدي - ولا أرفعه لك.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (7/ 4071) نے یزید بن ہارون سے روایت کیا ہے۔ یزید کہتے ہیں شعبہ نے مجھ سے کہا: "سدی نے اسے مرفوع کیا مگر میں تمہارے لیے مرفوع نہیں کرتا"۔
ورواه سفيانُ الثوري عند ابن أبي شيبة 8/ 376، والطبري في "تفسيره" 17/ 141 - 142، ويحيى بن أبي أنيسة عند الأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 136، كلاهما عن السُّدِّي، به موقوفًا، وهو المحفوظ.
حوالہ / مصدر: اسے سفیان الثوری اور یحییٰ بن ابی انیسہ نے سدی سے "موقوفاً" روایت کیا ہے، اور یہی "محفوظ" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3502 سے ماخوذ ہے۔