المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاتَّبَعَ مَا فِيهِ هَدَاهُ اللَّهُ مِنَ الضَّلَالَةِ باب: جو قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے اللہ اسے گمراہی سے ہدایت دے دیتا ہے
أخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا مِسعَر، حدثني عَلْقمة بن مَرثَد، عن المغيرة اليَشكُري، عن المَعرُور بن سُوَيد، عن عبد الله بن مسعود قال: قالت أمُّ حَبيبة بنت أبي سفيان: اللهمَّ أَمتِعْني بزوجي رسولِ الله ﷺ وبأَبي أبي سفيان وبأَخي معاويةَ، قال: فقال لها رسول الله ﷺ: "إِنَّكِ دَعَوتِ الله لآجالٍ معلومةٍ، وأرزاقٍ مقسومةٍ، وآثارٍ مَبلُوغةٍ، لا يُعجَّلُ شيءٌ منها قبلَ حِلِّه، ولا يُؤخَّر شيءٌ منها بعد حِلِّه، فلو دعوتِ الله أن يعافيَكِ، أو سألتِ الله أن يُعيذَكِ أو يعافيَكِ من عذابٍ في النار أو عذابٍ في القبرِ لكان خَيرًا" أو "لكان أفضلَ" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3440 - صحيحسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: ”اے اللہ! مجھے میرے شوہر رسول اللہ ﷺ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی معاویہ (کی زندگیوں) سے فائدہ دے،“ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ سے ان میعادوں کے بارے میں دعا کی ہے جو طے شدہ ہیں، اور ان رزقوں کے بارے میں جو تقسیم ہو چکے ہیں، اور ان نقوشِ قدم کے بارے میں جو (اپنی انتہا تک) پہنچنے والے ہیں، ان میں سے کوئی چیز اپنے وقت سے پہلے نہیں آ سکتی اور نہ ہی اپنے وقت کے بعد پیچھے ہو سکتی ہے، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عافیت دے یا یہ سوال کرتیں کہ وہ تمہیں آگ کے عذاب سے یا قبر کے عذاب سے پناہ دے یا عافیت عطا فرمائے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2969) من طريق أبي خيثمة زهير بن حرب، عن جعفر بن عون، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (6/ 3700) و (7/ 4254)، ومسلم (2663) (32) من طرق عن مسعر، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2969) نے زہیر بن حرب سے، انہوں نے جعفر بن عون سے روایت کیا ہے۔ نیز احمد اور مسلم (2663) نے مسعر سے نکالا ہے۔
اہم نکتہ: حاکم کا اسے مستدرک کہنا "ذہول" (غفلت) ہے۔
وأخرجه أحمد (7/ 3925)، ومسلم (2663) (33) من طريق سفيان الثوري، عن علقمة بن مرثد، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (7/ 3925) اور مسلم (2663) نے سفیان الثوری عن علقمہ بن مرثد سے نکالا ہے۔