المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ تُنَحَّى عَنْهُمُ الْجِبَالُ فَيَزْرَعُوا فِيهَا باب: اہلِ مکہ نے سوال کیا کہ پہاڑ ہٹا دیے جائیں تاکہ وہ کاشت کاری کریں
حدیث نمبر: 3421
وأخبرنا محمد بن علي، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن عَمرو بن دِينار، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ﴾ [الإسراء: 60]، قال: هي الزَّقُوم (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ﴾ ”اور اس درخت کے متعلق (جو ہم نے آپ کو دکھایا اور) جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔“ [سورة الإسراء: 60] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ زقوم کا درخت ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح كسابقه.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند بھی پچھلی سند کی طرح "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري (3888) و (4716) و (6613)، والترمذي (3134)، والنسائي (11228) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد - مجموعًا مع الحديث السابق.
حوالہ / مصدر: اور اسے بخاری نے (3888)، (4716)، (6613)، ترمذی نے (3134) اور نسائی نے (11228) میں مختلف طرق سے سفیان بن عیینہ سے، اسی سند کے ساتھ - پچھلی حدیث کے ساتھ ملا کر (مجموعاً) روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند بھی پچھلی سند کی طرح "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري (3888) و (4716) و (6613)، والترمذي (3134)، والنسائي (11228) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد - مجموعًا مع الحديث السابق.
حوالہ / مصدر: اور اسے بخاری نے (3888)، (4716)، (6613)، ترمذی نے (3134) اور نسائی نے (11228) میں مختلف طرق سے سفیان بن عیینہ سے، اسی سند کے ساتھ - پچھلی حدیث کے ساتھ ملا کر (مجموعاً) روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3421 سے ماخوذ ہے۔