حدیث نمبر: 3417
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، أخبرنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس؛ قال (1): سأَلْناه عن قول الله ﷿: ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ [الإسراء: 51] ما الَّذي أراد به؟ قال: الموتُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3377 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ﴾ ”یا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے سینوں (خیال) میں بہت بڑی ہو۔“ [سورة الإسراء: 51] کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”موت۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3417
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. والخبر في "سيرة ابن هشام" 1/ 317.» [ترقيم الرساله 3417] [ترقيم الشركة 3397] [ترقيم العلميه 3377]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) القائل هو مجاهد.
فنی نکتہ / علّت: (1) یہاں قائل (بات کرنے والے) "مجاہد" رحمہ اللہ ہیں۔
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. والخبر في "سيرة ابن هشام" 1/ 317.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت "سیرت ابن ہشام" (جلد 1، صفحہ 317) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3417 سے ماخوذ ہے۔