المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
قِصَّةُ الْحُجْرِ الْمَدَرِيِّ حِينَ أُجْبِرَ عَلَى لَعْنَةِ عَلِيٍّ ثُمَّ لَعَنَ آمِرَهُ بِحُسْنِ الْقَوْلِ باب: حجر مدری کا واقعہ جب انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت پر مجبور کیا گیا تو انہوں نے آمر پر حسنِ کلام کے ساتھ لعنت کی
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرَفي بمَرْوٍ من أصل كتابه، حدثنا أبو محمد عُبيد بن قُنفُذ البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحِمَّاني، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه قال: كان حُجْرُ بن قيس المَدَريُّ من المختصِّين بخِدْمة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فقال له عليٌّ يومًا: يا حُجْر، إنك تُقامُ بعدي فتُؤمرُ بلَعْني فالعَنِّي، ولا تَتبرَّأْ مني. قال طاووس: فرأيتُ حُجْرًا المَدَريَّ وقد أقامه أحمدُ بن إبراهيم خليفةُ بني أُميَّة في الجامع ووُكِّلَ به ليَلعَنَ عليًّا أو يُقتَل، فقال حُجْر: أَمَا إنَّ الأميرَ أحمد بن إبراهيم أَمَرني أن ألعَنَ عليًّا فالعَنُوه، لَعَنَه الله، فقال طاووس: فلقد أعمى الله قلوبَهم حتى لم يَقِفْ أحدٌ منهم على ما قال (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3366 - يحيى الحماني ضعيفطاؤس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حجر بن قیس مدری امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خاص خدمت کرنے والوں میں سے تھے۔ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”اے حجر! میرے بعد تمہیں کھڑا کیا جائے گا اور مجھ پر لعنت کرنے کا حکم دیا جائے گا، تو تم مجھ پر لعنت کر دینا لیکن مجھ سے لاتعلقی کا اظہار مت کرنا۔“ طاؤس کہتے ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ حجر مدری کو بنو امیہ کے خلیفہ کے نمائندے احمد بن ابراہیم نے جامع مسجد میں کھڑا کیا اور ان پر پہرہ لگا دیا کہ یا تو وہ علی پر لعنت کریں یا انہیں قتل کر دیا جائے۔ تو حجر نے کہا: ”سنو! امیر احمد بن ابراہیم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں علی پر لعنت کروں، پس تم اس (حکم دینے والے) پر لعنت کرو، اللہ اس پر لعنت کرے۔“ طاؤس کہتے ہیں: ”اللہ نے ان (ظالموں) کے دلوں کو اندھا کر دیا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی یہ نہ سمجھ سکا کہ حجر نے دراصل کیا کہا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حافظ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: یحییٰ ضعیف ہے، اس سے عبید بن قنفذ البزار نے سنا ہے اور میں نہیں جانتا وہ کون ہے۔ حافظ ابن حجر نے "لسان المیزان" (5/ 358) میں فرمایا: عبید بن قنفذ البزار مجہول ہے، اس سے یحییٰ الحمانی نے ایک باطل خبر روایت کی ہے، اور حمانی اپنے ضعف کے باوجود اس کا متحمل نہیں ہو سکتا؛ پھر انہوں نے یہ خبر ذکر کی۔
وقد روي نحو هذه القصة عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 56/ 310 بإسنادين آخرين فيهما ضعف، والأمير فيهما هو محمد بن يوسف الثقفي أخو الحجّاج وكان أميرًا على اليمن.
حوالہ / مصدر: اس قصے کی مثل ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (56/ 310) میں دو اور سندوں سے مروی ہے جن میں ضعف ہے۔
نوٹ / توضیح: ان میں امیر "محمد بن یوسف الثقفی" ہے جو حجاج کا بھائی تھا اور یمن کا امیر تھا۔