المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
خَيْرُ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ باب: آدمی کے لیے سب سے بہترین خزانہ نیک بیوی ہے
حدیث نمبر: 3321
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، أخبرني عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه قال: جَلَسْنا إلى المِقْداد بن الأسود بدمشقَ وهو على تابوتٍ ما به عنه فَضْلٌ، فقال له رجل: لو قعدتَ العامَ عن الغزو قال: أَبَتْ علينا البَحُوثُ -يعني: سورةَ التوبة- قال الله ﷿: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41]، ولا أَجِدُني إلَّا خفيفًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3282 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دمشق میں ایک چھوٹے سے صندوق پر بیٹھے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: ”کاش کہ آپ اس سال جہاد سے رک کر بیٹھ جاتے“، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں «البحوث» یعنی سورہ توبہ نے (گھر بیٹھنے سے) روک دیا ہے، اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ”نکلو خواہ تم ہلکے ہو یا بوجھل“ [سورة التوبة: 41]، اور میں تو خود کو صرف ہلکا (تیار اور چاق و چوبند) ہی پاتا ہوں“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: (سند میں موجود) ابو الموَجِّہ: یہ محمد بن عمرو فزاری ہیں، عبدان: یہ عبداللہ بن عثمان مروزی ہیں، اور عبداللہ: یہ ابن المبارک ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 9/ 21 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن" (9/ 21) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (2583) من طريق أبي راشد الحُبْراني عن المقداد بن الأسود.
حوالہ / مصدر: اور یہ مصنف کے ہاں رقم (2583) پر ابو راشد حبرانی کے واسطے سے مقداد بن اسود سے گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: (سند میں موجود) ابو الموَجِّہ: یہ محمد بن عمرو فزاری ہیں، عبدان: یہ عبداللہ بن عثمان مروزی ہیں، اور عبداللہ: یہ ابن المبارک ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 9/ 21 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن" (9/ 21) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (2583) من طريق أبي راشد الحُبْراني عن المقداد بن الأسود.
حوالہ / مصدر: اور یہ مصنف کے ہاں رقم (2583) پر ابو راشد حبرانی کے واسطے سے مقداد بن اسود سے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3321 سے ماخوذ ہے۔