حدیث نمبر: 3310
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا زكريا بن عَدِيٍّ، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن عمرو بن مُرَّة، عن خَيْثمة قال: كان سعد بن أبي وقَّاص في نفرٍ فذَكَروا عليًّا فشَتَمُوه، فقال سعد: مهلًا عن أصحاب رسول الله ﷺ، فإنَّا أصَبْنا ذنبًا مع رسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [الأنفال:68]، فأرجو أن تكون رحمةٌ من عند الله سَبَقَت لنا، فقال بعضهم: فوالله إنه كان يُبغِضُك ويُسمِّيك الأخنسَ، فضَحِكَ سعدٌ حتى استَعْلاه الضحكُ، ثم قال: أليس قد يَجِدُ [المَرْءُ] (1) على أخيه في الأمر يكون بينَه وبينَه ثم لا يَبلُغُ ذلك أمانتَه، وذكر كلمةً أخرى (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [9 - سورة براءة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3271 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

خیثمہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے تو انہوں (تو کچھ لوگوں نے) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور انہیں برا بھلا کہا، سیدنا سعد نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں اپنی زبانیں روک لو، کیونکہ ہم سے رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک گناہ سرزد ہوا تھا (قیدیوں کا فدیہ لینا)، جس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ ”اگر اللہ کا لکھا ہوا حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بدلے تمہیں بڑا عذاب پہنچتا“ [سورة الأنفال: 68]، پس مجھے امید ہے کہ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے رحمت پہلے ہی لکھی جا چکی تھی، تو ان میں سے کسی نے کہا: اللہ کی قسم! وہ تو آپ سے بغض رکھتے تھے اور آپ کو «الاخنس» کہہ کر پکارتے تھے، اس پر سعد اتنا ہنسے کہ ان پر ہنسی کا غلبہ ہو گیا، پھر فرمایا: کیا ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے بھائی سے کسی معاملے میں ناراض ہو جاتا ہے جو ان کے درمیان پیش آتا ہے، مگر وہ بات اس (بھائی) کی امانت و دیانت پر اثر انداز نہیں ہوتی؟ اور انہوں نے ایک اور کلمہ بھی ارشاد فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،خيثمة: هو ابن عبد الرحمن بن أبي سَبْرة.» [ترقيم الرساله 3310] [ترقيم الشركة 3290] [ترقيم العلميه 3271]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) زيادة من "تلخيص الذهبي" لم ترد في نسخنا الخطية.
نوٹ / توضیح: یہ اضافہ ذہبی کی "تلخیص" سے لیا گیا ہے جو ہمارے قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھا۔
(2) إسناده صحيح. خيثمة: هو ابن عبد الرحمن بن أبي سَبْرة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: (راوی) خیثمہ: یہ ابن عبدالرحمن بن ابی سبرہ ہیں۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في المطالب العالية للحافظ ابن حجر (4172) عن زكريا بن عدي، بهذا الإسناد. وصحَّحه الحافظ.
حوالہ / مصدر: اسے اسحاق بن راہویہ نے اپنی "مسند" میں - جیسا کہ حافظ ابن حجر کی "المطالب العالیہ" (4172) میں ہے - زکریا بن عدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اور حافظ (ابن حجر) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 5/ 1734 من طريق عبد الله بن جعفر الرقي، عن عبيد الله بن عمرو، به.
حوالہ / مصدر: اسے اسی کی مثل ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (5/ 1734) میں عبداللہ بن جعفر الرقی کے طریق سے، عبیداللہ بن عمرو سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3310 سے ماخوذ ہے۔