حدیث نمبر: 3303
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي -واللفظ له- حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثني يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثني أَبي، حدثني صالح، عن ابن شهاب، حدثني عبد الله بن ثَعْلبة بن أبي صُعَير العُذْري قال: كان المستفتِحَ أبو جهل، فإنه قال حين الْتَقى القومُ: اللهمَّ أيُّنا كان أقطع للرَّحِم، وآتانا بما لا نَعرِف، فأَحِنْه الغَداةَ، فكان ذلك استفتاحَه، فأنزل الله: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ﴾ إلى قوله: ﴿وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأنفال: 19] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3264 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر عذری سے روایت ہے کہ (بدر میں) فتح کی دعا مانگنے والا ابوجہل تھا، کیونکہ جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو اس نے کہا تھا: اے اللہ! ہم میں سے جو رشتہ داری کو زیادہ توڑنے والا ہے اور ایسی بات لایا ہے جسے ہم نہیں جانتے، آج صبح اسے ہلاک کر دے، تو یہ اس کی طرف سے فتح (فیصلے) کی طلب تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ﴾ ”اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو تمہارے پاس فیصلہ آ چکا ہے“ سے لے کر ﴿وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”اور یہ کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے“ [سورة الأنفال: 19] تک۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3303
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وعبد الله بن ثعلبة قيل: له صحبة، وقيل: بل رؤية. صالح: هو ابن كيسان.» [ترقيم الرساله 3303] [ترقيم الشركة 3283] [ترقيم العلميه 3264]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، وعبد الله بن ثعلبة قيل: له صحبة، وقيل: بل رؤية. صالح: هو ابن كيسان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: عبداللہ بن ثعلبہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں "صحبت" حاصل ہے، اور (بعض نے) کہا کہ صرف "رویت" (دیدارِ نبی ﷺ) حاصل ہے۔ صالح: یہ ابن کیسان ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (23661) عن يزيد بن هارون، بإسناده. وصرَّح ابن إسحاق عنده بالتحديث.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23661) نے یزید بن ہارون سے، ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور ان کے ہاں ابن اسحاق نے تحدیث (سماع) کی تصریح کی ہے۔
وأخرجه النسائي (11137) عن عبيد الله بن سعد بن إبراهيم، عن عمه -وهو يعقوب بن إبراهيم- بإسناده.
حوالہ / مصدر: اور اسے نسائی (11137) نے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے چچا - یعقوب بن ابراہیم - سے، ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3303 سے ماخوذ ہے۔