حدیث نمبر: 326
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدِي، عن شُعْبة، عن علي بن الحَكَم، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: كان أصحابُ النبي ﷺ إذا جلسوا كان حديثُهم - يعني - الفقهَ، إلّا أن يَقرأَ رجلٌ سورةً أو يأمرَ رجلًا يقرأُ سورة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ موقوف عن أبي سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 322 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب جب بیٹھتے تھے تو ان کی گفتگو کا محور دین کی گہری سمجھ بوجھ (فقہ) ہوتا تھا، الا یہ کہ کوئی شخص قرآن کی کوئی سورت تلاوت کرتا یا کسی کو تلاوت کا حکم دیتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 326
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة» [ترقيم الرساله 326] [ترقيم الشركة 321] [ترقيم العلميه 322]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود ابو نضرہ کا پورا نام المنذر بن مالک بن قطعہ ہے۔
وأخرجه البيهقي في "المدخل" (419) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "المدخل" (419) میں امام حاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الخطيب البغدادي في "الفقيه والمتفقه" (948)، و"الجامع لأخلاق الراوي والسامع" (1207) من طريق عفان، عن شعبة، به - إلّا أنه جعله من قول أبي نضرة.
فنی نکتہ / علّت: خطیب بغدادی نے بھی اسے روایت کیا ہے، مگر انہوں نے اسے مرفوع کے بجائے ابو نضرہ کا اپنا قول (موقوف) قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 326 سے ماخوذ ہے۔