حدیث نمبر: 3194
حدَّثَناه أبو حامد أحمد بن محمد بن شعيب الفقيه الزاهد، حدثنا سهل ابن عمَّار العَتَكي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن أبي سِنان، عن ابن عبَّاس قال: سأل الأقرعُ بنُ حابسٍ رسولَ الله ﷺ فقال: الحجُّ في كلِّ عام مرَّةً؟ قال: "لا، بل مرَّةً واحدةً، فمن زادَ فتَطوُّع" (4). وفي الباب عن علي بن أبي طالب بالشَّرح والبيان عن رسول الله ﷺ:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور پوچھا: کیا حج ہر سال ایک مرتبہ (فرض) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ (زندگی میں) صرف ایک ہی مرتبہ ہے، پس جو اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے۔“
اس باب میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مفصل بیان مروی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3194
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سهل بن عمار -وإن كان متَّهمًا- قد تابعه سعيد بن مسعود المروزي فيما سلف عند المصنف برقم (1626). وسفيان بن حسين أيضًا متكلَّم في روايته عن الزهري، إلَّا أنه متابع عنه.» [ترقيم الرساله 3194] [ترقيم الشركة 3174]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سهل بن عمار -وإن كان متَّهمًا- قد تابعه سعيد بن مسعود المروزي فيما سلف عند المصنف برقم (1626). وسفيان بن حسين أيضًا متكلَّم في روايته عن الزهري، إلَّا أنه متابع عنه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند ضعیف ہے؛ سہل بن عمار - اگرچہ متہم ہیں - لیکن سعید بن مسعود المروزی نے ان کی متابعت کی ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (1626) پر گزر چکا۔
فنی نکتہ / علّت: اور سفیان بن حسین کی بھی زہری سے روایت میں کلام ہے، تاہم ان سے متابعت کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3194 سے ماخوذ ہے۔