حدیث نمبر: 3188
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا﴾ تلا إلى قوله: ﴿وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا﴾ [آل عمران: 35 - 37] قال: كَفَلَها زكريا، فدخل عليها المِحرابَ، فوجد عندها عِنَبًا في مكتَل في غير حينه، قال زكريا: ﴿أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ قال: إِنَّ الذي يَرزْقُكِ العنبَ في غير حينِه، لَقادرٌ أن يَرزُقَني من العاقر الكبير العقيم ولدًا، هنالك دعا زكريَّا ربَّه، فلما بُشِّر بيحيى قال: ﴿رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ [مريم:10]، قال: يُعتَقَلُ لسانُك من غير مرض وأنت سَوِيٌّ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3150 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا﴾ سے لے کر ﴿وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا﴾ [سورة آل عمران: 35 - 37] تک کی تلاوت کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم علیہا السلام کی کفالت کی، وہ جب بھی ان کے پاس عبادت گاہ (محراب) میں داخل ہوتے تو وہاں بے موسم انگوروں کے ٹوکرے پاتے، سیدنا زکریا علیہ السلام نے پوچھا: ﴿أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ ”(اے مریم!) یہ تمہارے پاس کہاں سے آئے؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ کی طرف سے ہیں، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“ انہوں نے (اپنے دل میں) کہا: یقیناً وہ ذات جو بے موسم انگور دے سکتی ہے وہ مجھ جیسے بوڑھے اور بانجھ بیوی کے باوجود مجھے اولاد عطا کرنے پر بھی قادر ہے، وہیں زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی، جب انہیں سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی خوشخبری دی گئی تو انہوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ ”اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما، فرمایا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تندرست ہونے کے باوجود تین راتوں تک لوگوں سے کلام نہیں کر سکو گے۔“ [سورة مریم: 10] انہوں نے فرمایا: یعنی بغیر کسی بیماری کے تمہاری زبان کلام سے رک جائے گی حالانکہ تم بھلے چنگے ہو گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3188
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح إن شاء الله
تخریج حدیث «إسناده صحيح إن شاء الله، عطاء بن السائب» [ترقيم الرساله 3188] [ترقيم الشركة 3168] [ترقيم العلميه 3150]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح إن شاء الله، عطاء بن السائب -وإن رُمي بالاختلاط- قد توبع. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند صحیح ہے؛ عطاء بن السائب - اگرچہ ان پر اختلاط کا الزام ہے - لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں، اور جریر سے مراد ’ابن عبدالحمید‘ ہیں۔
وأخرجه مختصرًا ابن المنذر في "تفسيره" (398) عن زكريا بن عدي عن إسحاق بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے اپنی "تفسیر" (398) میں زکریا بن عدی سے، انہوں نے اسحاق بن ابراہیم سے مختصراً اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه كذلك الطبري 3/ 244، وابن أبي حاتم 2/ 640 من طريق شريك النخعي، عن عطاء، به.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے طبری نے 3/ 244 میں، اور ابن ابی حاتم نے 2/ 640 میں شریک النخعی کے طریق سے، انہوں نے عطاء سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا 3/ 246 من طريق ابن جريج عن يعلى بن مسلم، عن سعيد بن جبير، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ہی 3/ 246 میں ابن جریج کے طریق سے، انہوں نے یعلیٰ بن مسلم سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بتمامه آدم بن أبي إياس في "تفسيره" 1/ 126 عن ورقاء، عن عطاء بن السائب، عن سعيد ابن جبير من قوله، لم يذكر ابن عبَّاس.
حوالہ / مصدر: اسے آدم بن ابی ایاس نے اپنی "تفسیر" 1/ 126 میں ورقاء سے، انہوں نے عطاء بن السائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے ان کے قول کے طور پر مکمل تخریج کیا ہے، اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3188 سے ماخوذ ہے۔