حدیث نمبر: 3146
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نجيح، عن عطاء، عن ابن عباس، قال: نَسَخَت هذه الآيةُ عِدَّتَها في أهلها، فتعتدُّ حيث شاءت، لقول الله: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [البقرة: 240]. قال عطاء: إن شاءت اعتدَّت في أهلها، وإن شاءت خَرَجَت، لقول الله ﷿: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ [البقرة: 240] (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه (4)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3109 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس آیت نے بیوہ کے لیے (ایک سال تک) اپنے سسرال والوں میں عدت گزارنے کی پابندی کو منسوخ کر دیا ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ ”انہیں (گھر سے) نکالا نہ جائے۔“ [سورة البقرة: 240]، عطاء کہتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو اپنے سسرال میں عدت گزارے اور اگر چاہے تو وہاں سے چلی جائے کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ ”پس اگر وہ (اپنی مرضی سے) نکل جائیں تو تم پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں جو وہ اپنی جانوں کے حق میں (شرعی طریقے سے) کریں۔“ [سورة البقرة: 240]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3146
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف، وقد روي من غير هذا الوجه، فانظر ما سلف برقم (2875). ورقاء: هو ابن عمر اليَشكُري.» [ترقيم الرساله 3146] [ترقيم الشركة 3127] [ترقيم العلميه 3109]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف، وقد روي من غير هذا الوجه، فانظر ما سلف برقم (2875). ورقاء: هو ابن عمر اليَشكُري.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند مصنف کے شیخ عبدالرحمن بن الحسن کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور یہ اس وجہ (طریق) کے علاوہ سے بھی مروی ہے، تفصیلِ روایت: پس وہ دیکھیں جو نمبر (2875) پر گزر چکا ہے۔ ورقاء سے مراد ’ابن عمر الیشکری‘ ہیں۔
(4) بل أخرجه البخاري.
نوٹ / توضیح: بلکہ اسے بخاری نے نکالا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3146 سے ماخوذ ہے۔