حدیث نمبر: 311
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن جُرَيج. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا سفيان. وأخبرني محمد بن أحمد بن عمر، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا عبد الرحمن بن بِشْر، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبَير، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "يُوشِكُ الناسُ أن يَضرِبوا أكبادَ الإبل، فلا يَجِدُوا عالِمًا أعلمَ من عالِمِ المدينة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد كان ابنُ عيينة ربما يجعله روايةً (2):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 307 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب لوگ (علم کی تلاش میں) اونٹوں کے جگر ماریں گے (یعنی دور دراز کے سفر کر کے انہیں تیز دوڑائیں گے)، تو وہ مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کسی کو عالم نہیں پائیں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابن عیینہ بسا اوقات اسے بطورِ روایت (براہِ راست منسوب کر کے) بیان کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 311
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إن كان ابن جريج سمع من أبي الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس المكي - فقد اختُلِفَ على سفيان - وهو ابن عيينة - في تصريح ابن جريج بالسماع، فقد رواه عنه جمهور أصحابه بعنعنة ابن جريج، كما هو مبيَّن في تعليقنا على الحديث في "مسند ...» [ترقيم الرساله 311] [ترقيم الشركة 306] [ترقيم العلميه 307]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح إن كان ابن جريج سمع من أبي الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس المكي - فقد اختُلِفَ على سفيان - وهو ابن عيينة - في تصريح ابن جريج بالسماع، فقد رواه عنه جمهور أصحابه بعنعنة ابن جريج، كما هو مبيَّن في تعليقنا على الحديث في "مسند أحمد" 13/ (7980)، وخالفهم هارون بن معروف عند الطحاوي في "مشكل الآثار" (4016)، وعلي بن المديني عند ابن أبي طاهر الأزدي السلماسي في "منازل الأئمة الأربعة" ص 185، وابن مفرِّج المقدسي في كتاب "الأربعين" ص 160، ومحمد بن عمر بن صفوان عند السلماسي أيضًا، فرواه ثلاثتهم عن سفيان عن ابن جريج قال: حدثنا أبو الزبير، وذكر ابن المديني وابن صفوان تصريح أبي الزبير أيضًا بالتحديث عن أبي صالح، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے بشرطیکہ ابن جریج کا ابوالزبیر (محمد بن مسلم بن تدرس) سے سماع ثابت ہو جائے۔
فنی نکتہ / علّت: سفیان بن عیینہ سے اس روایت میں ابن جریج کے سماع کی تصریح پر اختلاف ہے؛ جمہور نے اسے عنعنہ سے روایت کیا ہے (مسند احمد 13/7980)۔ تاہم ہارون بن معروف (طحاوی 4016)، علی بن مدینی اور محمد بن عمر بن صفوان نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے ابن جریج کے سماع (حدثنا) کی صراحت کی ہے۔ ابن مدینی اور ابن صفوان نے ابوالزبیر کے ابوصالح سے سماع کی تصریح بھی ذکر کی ہے۔
والحديث أخرجه أحمد 13/ (7980)، والترمذي (2680)، وابن حبان (3736) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (ج 13، 7980)، ترمذی (2680) اور ابن حبان (3736) نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" کہا ہے۔
وأخرجه النسائي في "الكبرى" (4277) من طريق سفيان بن عيينة، لكن قال فيه: عن أبي الزناد، مكان أبي الزبير، قال النسائي: هذا خطأ، والصواب: أبو الزبير عن أبي صالح.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے "الکبریٰ" (4277) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے لیکن وہاں ابوالزبیر کی جگہ "ابوالزناد" کا نام درج ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام نسائی فرماتے ہیں کہ یہ نام کی غلطی ہے اور درست "ابوالزبیر عن ابی صالح" ہی ہے۔
(2) يعني موقوفًا على أبي هريرة وقد خالف الحاكمَ في إطلاق هذا اللفظ هنا على الموقوف كلُّ من كتب في علوم الحديث ممن جاء بعده كالخطيب البغدادي وابن الصلاح وغيرهما، فعدُّوا هذا اللفظ من الكنايات المستعملة في رفع الحديث إلى النبي ﷺ، مثل قولهم: يَبلُغ به، أو يَنْميه.
اہم نکتہ: مصنف (حاکم) کی مراد یہاں حضرت ابوہریرہ پر موقوف ہونا ہے، لیکن امام حاکم کے بعد آنے والے علمِ حدیث کے ماہرین (جیسے خطیب بغدادی اور ابن الصلاح وغیرہ) نے ان سے اختلاف کیا ہے۔
مجموعی اصول / قاعدہ: ماہرین کے نزدیک یہ الفاظ (یبلغ بہ وغیرہ) کنایہ ہیں جو حدیث کو نبی ﷺ تک مرفوع کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
وقد أشار إلى رواية الوقف هذه أحمد فيما رواه عن سفيان - كما في "المنتخب من علل الخلال" (67) - قال: وأوقفه سفيان مرةً فلم يَجُزْ به أبا هريرة.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے سفیان سے مروی روایت (علل الخلال 67) میں اس کے موقوف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سفیان نے اسے ایک بار موقوفاً بیان کیا اور ابوہریرہ سے آگے (نبی ﷺ تک) نہیں لے گئے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 311 سے ماخوذ ہے۔