المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
الأَصْلُ فِي قَوْلِ الْعَالِمِ: لَا أَدْرِي باب: عالم کی اصل نشانی یہ ہے کہ وہ جس بات کو نہ جانتا ہو، صاف کہہ دیتا ہے: ‘مجھے نہیں معلوم’۔
حدَّثَناه أبو الطيِّب محمد بن أحمد بن الحسن الحِيري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الرحيم بن عبد الله بن مسعود السَّلَمي، حدثنا عَبْدانُ بن عثمان وسعد بن يزيد الفرَّاء: قالا: حدثنا عبد الله بن المبارَك، عن عمرو بن ثابت، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه: أنَّ رجلًا أَتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البلاد شرٌّ؟ قال: "لا أدري"، فلما أتى جبريلُ محمدًا ﷺ قال: "يا جبريل، أيُّ البلاد شرٌّ؟ قال: لا أدري حتى أسألَ ربي، فانطَلَقَ جبريلُ، فمَكَثَ ما شاء الله أن يَمكُثَ، ثم جاء فقال: يا محمد، سألتَني: أيُّ البلاد شرٌّ؟ وإني قلت: لا أدري، وإني سألت ربي: أيُّ البلاد شرٌّ؟ فقال: أسواقُها" (1). عمرو بن ثابت هذا: هو ابن أبي المِقْدام الكوفي، وليس من شرط الشيخين، وإنما ذكرتُه شاهدًا، ورواية عبد الله بن المبارك عنه حثَّني على إخراجه، فإني قد عَلَوتُ فيه من وجه لا يُعتمَد.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! بدترین جگہیں کون سی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم“، پھر جب جبریل علیہ السلام تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے جبریل! بدترین مقامات کون سے ہیں؟“ انہوں نے کہا: مجھے علم نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے دریافت کر لوں، پھر وہ گئے اور جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آ کر عرض کیا: اے محمد! آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ بدترین جگہیں کون سی ہیں اور میں نے کہا تھا کہ مجھے نہیں معلوم، پھر میں نے اپنے رب سے پوچھا کہ بدترین جگہیں کون سی ہیں؟ تو اللہ نے فرمایا: ”وہاں کے بازار۔“
عمرو بن ثابت (ابو المقدام کوفی) شیخین کی شرط پر نہیں ہیں، میں نے اسے محض بطورِ شاہد ذکر کیا ہے، اور عبداللہ بن مبارک کا ان سے روایت کرنا مجھے اس کے ذکر پر ابھارنے کا سبب بنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ سند عمرو بن ثابت کی وجہ سے انتہائی ضعیف ہے کیونکہ جمہور محدثین نے اسے کمزور (واہی) قرار دیا ہے۔