المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسْبِ ذَلِكَ باب: اللہ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پوری زمین کی مٹی سے پیدا فرمایا، اسی مناسبت سے ان کی اولاد مختلف رنگوں اور طبیعتوں کی بنی
حدیث نمبر: 3074
أخبرنا محمد بن محمد بن علي الصَّنعاني، بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني عوف العَبْدي، عن قَسَامة بن زهير، عن أبي موسى الأشعري، عن النبي ﷺ قال: "خلق اللهُ آدمَ من أَدِيم الأرض كلِّها، فخرجت ذُرِّيتُه على حَسَبِ ذلك، منهم الأبيضُ والأسودُ، والأسمرُ والأحمرُ، ومنهم بينَ ذلك، ومنهم السهلُ، والخبيثُ والطيِّب" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3037 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پوری زمین کی بالائی سطح سے پیدا فرمایا، چنانچہ ان کی اولاد بھی اسی تناسب سے پیدا ہوئی، ان میں کوئی سفید ہے تو کوئی سیاہ، کوئی گندمی ہے تو کوئی سرخ اور کوئی ان کے درمیانی رنگ کا ہے، اسی طرح ان میں کوئی نرم مزاج ہے تو کوئی برا اور کوئی پاکیزہ طبع ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده صحيح. عوف العبدي: هو ابن أبي جميلة الأعرابي. وأخرجه أحمد 32/ (19582) و (19583)، وأبو داود (4693)، والترمذي (2955)، وابن حبان (6160) و (6181) من طرق عن عوف، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عوف العبدی سے مراد ’ابن ابی جمیلہ الاعرابی‘ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 32/ (19582) اور (19583)، ابوداؤد نے (4693)، ترمذی نے (2955)، اور ابن حبان نے (6160) اور (6181) میں عوف کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عوف العبدی سے مراد ’ابن ابی جمیلہ الاعرابی‘ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 32/ (19582) اور (19583)، ابوداؤد نے (4693)، ترمذی نے (2955)، اور ابن حبان نے (6160) اور (6181) میں عوف کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3074 سے ماخوذ ہے۔