حدیث نمبر: 3066
حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم ابن الحسين، حدثنا الفضل بن دُكَين، حدثنا آدم بن أبي إياس، أخبرنا شُعبة، عن سَلَمة بن كُهيل، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: اقرؤوا سورة البقرة في بيوتِكم، فإنَّ الشيطان لا يَدخُلُ بيتًا تُقرأُ فيه سورةُ البقرة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3029 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اپنے گھروں میں سورہ بقرہ کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3066
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف من أجل عبد الرحمن بن الحسن القاضي، وهو متابع، ومن فوقه ثقات. أبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشَمي.» [ترقيم الرساله 3066] [ترقيم الشركة 3047] [ترقيم العلميه 3029]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف من أجل عبد الرحمن بن الحسن القاضي، وهو متابع، ومن فوقه ثقات. أبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشَمي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث ’صحیح لغیرہ‘ ہے، اور اس سند میں عبدالرحمن بن الحسن القاضی کی وجہ سے ضعف ہے، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے، اور ان سے اوپر والے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الاحوص سے مراد ’عوف بن مالک الجشمی‘ ہیں۔
وقد سلف برقم (2086) من طريق الفضل بن دكين عن شعبة، فروايته هنا عن آدم بن أبي إياس عن شعبة من المَزِيد في متصل الأسانيد. وانظر تمام تخريجه هناك.
تفصیلِ روایت: اور یہ نمبر (2086) پر فضل بن دکین عن شعبہ کے طریق سے گزر چکا ہے، چنانچہ یہاں اس کا آدم بن ابی ایاس عن شعبہ سے مروی ہونا ’مزید فی متصل الاسانید‘ کے قبیل سے ہے۔ اس کی مکمل تخریج وہاں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3066 سے ماخوذ ہے۔