حدیث نمبر: 3062
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا حمزة بن المغيرة، عن عاصم، عن أبي العاليَةِ، عن ابن عبَّاس في قوله تعالى: ﴿الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ قال: هو رسولُ الله ﷺ وصاحباه. قال: فذكَرنا ذلك للحسن، فقال: صَدَقَ والله ونَصَحَ هو رسول الله ﷺ وأبو بكر وعمر ﵄ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [2 - من سورة البقرة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3025 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ [سورة الفاتحة: 6] کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں رفقائے کار (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اس بات کا تذکرہ امام حسن بصری سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ”بخدا! انہوں نے سچ کہا اور خیر خواہی کی، بلاشبہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہی ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔ [سورة البقرة]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3062
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم
تخریج حدیث «إسناده قوي. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم، وعاصم هو ابن سليمان الأحول، وأبو العالية: هو رفيع بن مهران الرِّياحي.» [ترقيم الرساله 3062] [ترقيم الشركة 3043] [ترقيم العلميه 3025]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم، وعاصم هو ابن سليمان الأحول، وأبو العالية: هو رفيع بن مهران الرِّياحي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو النضر سے مراد ’ہاشم بن القاسم‘ ہیں، عاصم سے مراد ’ابن سلیمان الاحول‘ ہیں، اور ابو العالیہ سے مراد ’رفیع بن مہران الریاحی‘ ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 75 عن عبد الله بن كثير أبي صديف، وابن أبي حاتم في "تفسيره" أيضًا 1/ 30 عن سعدان بن نصر، كلاهما عن أبي النضر هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد - إلّا أنهما لم يذكرا فيه ابنَ عبَّاس وجعلاه من قول أبي العالية. وابن كثير لم نقف على حاله، وسعدان بن نصر ثقة.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسيره" 1/ 75 میں عبداللہ بن کثیر ابو صدیف سے، اور ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 30 میں سعدان بن نصر سے، دونوں نے ابو النضر ہاشم بن القاسم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے - سوائے اس کے کہ ان دونوں نے اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا اور اسے ابو العالیہ کا قول قرار دیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن کثیر کے حالات ہمیں نہیں ملے، اور سعدان بن نصر ثقہ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3062 سے ماخوذ ہے۔