المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عَلِمَ باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح پڑھے جس طرح اسے سکھایا گیا
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله قال: أقرأَني رسول الله ﷺ سورةَ (حم)، ورُحْتُ إلى المسجد عَشِيَّةً، فجلس إليَّ رَهْطٍ، فقلت لرجل من الرَّهْط: اقرأْ عليَّ، فإذا هو يقرأُ حروفًا لا أقرؤُها، فقلت له: مَن أقرأَكَها؟ قال: أقرأَنيها رسول الله ﷺ، فانطَلَقْنا إلى رسول الله ﷺ وإذا عنده رجل، فقلت: اختَلَفْنا في قراءتنا، وإذا وجهُ رسول الله ﷺ قد تغيَّر ووَجَدَ في نفسه حين ذكرتُ له الاختلاف، فقال: "إنما أهلَكَ من كان قبلَكم الاختلافُ"، ثم أسرَّ إلى عليٍّ، فقال عليٌّ: إنَّ رسول الله ﷺ يأمرُكم أن يقرأَ كلُّ رجل منكم كما عُلِّم، فانطَلَقْنا وكلُّ رجل منا يقرأُ حروفًا لا يقرؤُها صاحبُه (2).
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سورہ (حم) پڑھائی، پھر میں شام کے وقت مسجد گیا تو وہاں ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا: مجھے (یہ سورت) پڑھ کر سناؤ، تو وہ اسے ایسے حروف (الفاظ) کے ساتھ پڑھ رہا تھا جو میں نہیں پڑھتا تھا، میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ کے پاس ایک صاحب بیٹھے تھے، میں نے عرض کی: ہماری قرات میں اختلاف ہو گیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور جب میں نے اختلاف کا ذکر کیا تو آپ نے اسے (اپنے دل میں) ناپسند فرمایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں کو (دین میں) اختلاف ہی نے ہلاک کیا تھا“، پھر آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سرگوشی کی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح پڑھے جیسے اسے سکھایا گیا ہے، چنانچہ ہم وہاں سے چلے گئے جبکہ ہم میں سے ہر شخص ایسے حروف پڑھ رہا تھا جو اس کا ساتھی نہیں پڑھتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
وأخرجه ابن حبان (747) من طريق عامر بن مُدرِك، عن عاصم، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث و اسناد: حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند عاصم (ابن ابی النجود) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ زر سے مراد "ابن حبیش" اور عبداللہ سے مراد "ابن مسعود" ہیں۔
حوالہ / تخریج: اسے ابن حبان (747) نے عامر بن مدرک عن عاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 7/ (3981) و (3992) و (3993) و (4322)، وابن حبان (746) من طرق عن عاصم، به.
حوالہ / تخریج: اسے احمد (7/ 3981، 3992، 3993، 4322) اور ابن حبان (746) نے عاصم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مختصرًا أحمد 6/ (3803) من طريق همام، عن عاصم، عن أبي وائل، عن ابن مسعود.
حوالہ / تخریج: اسے احمد (6/ 3803) نے ہمام عن عاصم عن ابی وائل عن ابن مسعود کے طریق سے مختصر الفاظ میں (بنحوہ مختصراً) روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3724) و 7/ (3907) و (3908) و (4364)، والبخاري (2410) و (3476) و (5062)، والنسائي (8040) من طريق النَّزّال بن سَبْرة، عن عبد الله بن مسعود ولم يذكر فيه عليًّا.
حوالہ / تخریج: اسے احمد (6/ 3724، 7/ 3907، 3908، 4364)، بخاری (2410، 3476، 5062) اور نسائی (8040) نے نزال بن سبرہ عن عبداللہ بن مسعود کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔