المستدرك على الصحيحين
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
حَضَانَةُ الْوَلَدِ لِلْمَرْأَةِ الْمُطَلَّقَةِ مَا لَمْ تَنْكِحْ باب: طلاق یافتہ عورت بچے کی حضانت کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ نکاح نہ کرے
حدیث نمبر: 2866
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني أبو عَمرو الأوزاعي، حدثني عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو: أنَّ امرأة قالت: يا رسول الله، ابني هذا كان بطني له وِعاءً، وثَدْيِي له سِقاءً، وحَجْري له حِواءً، وإِنَّ أباه طلَّقني وأراد أن يَنزِعَه مني، فقال لها رسول الله ﷺ: "أنتِ أحقُّ به ما لم تَنْكِحي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2830 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا برتن (ٹھکانہ)، میرا سینہ اس کا مشکیزہ اور میری گود اس کی پناہ گاہ رہی ہے، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تم اس کی (پرورش کی) زیادہ حقدار ہو جب تک کہ تم (دوسرا) نکاح نہ کر لو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (2276) عن محمود بن خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2276) نے محمود بن خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6707) من طريق ابن جُرَيج، عن عمرو بن شعيب، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11/ 6707) نے ابن جریج کے طریق سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (2276) عن محمود بن خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2276) نے محمود بن خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6707) من طريق ابن جُرَيج، عن عمرو بن شعيب، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11/ 6707) نے ابن جریج کے طریق سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2866 سے ماخوذ ہے۔