حدیث نمبر: 2778
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث العَنْبري، حدثني أبي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن محمد بن سِيرِين، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ أعظمَ الذُّنوب عند الله رجلٌ تَزوّج امرأةً، فلما قضى حاجتَه منها طَلَّقها وذَهَب بمَهرِها (1)، ورجلٌ استعملَ رجلًا فذهب بأُجرتِه، وآخَرُ يَقتُل دَابَّةً (2) عَبَثًا" (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2743 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک بڑے گناہوں میں سے (ایک گناہ) اس شخص کا ہے جو کسی عورت سے نکاح کرے، پھر جب اس سے اپنی حاجت پوری کر لے تو اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر ہڑپ کر جائے، اور وہ شخص جو کسی کو مزدوری پر رکھے اور اس کی اجرت دبا لے، اور وہ شخص جو کسی جانور کو محض کھیل تماشے کے طور پر بلاوجہ قتل کر دے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2778
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، فهو صدوق.» [ترقيم الرساله 2778] [ترقيم الشركة 2759] [ترقيم العلميه 2743]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وقع في (ز) و (ص) و (ع): مهرها. بإسقاط الباء، والمثبت من (ب) وهو الموافق لرواية البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 241 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الجادة.
نوٹ / توضیح: مخطوطہ نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں لفظ "مهرها" (بغیر 'ب' کے) آیا ہے، جبکہ ہم نے جو متن قائم کیا ہے وہ نسخہ (ب) سے لیا گیا ہے، اور یہی امام بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (7/ 241) کی روایت کے موافق ہے جو انہوں نے ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند (جادہ) کے ساتھ نقل کی ہے۔
(2) في (ز) و (ص): دابته، والمثبت من (ب) و (ع)، وهو الموافق لرواية البيهقي عن الحاكم، وهو أنسب وأليق.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ص) میں "دابته" (اس کا جانور) کے الفاظ ہیں، جبکہ ہم نے متن نسخہ (ب) اور (ع) سے ثابت کیا ہے، اور یہی امام بیہقی کی "الحاکم" سے روایت کے موافق ہے، اور سیاق و سباق کے اعتبار سے یہی زیادہ مناسب اور لائق ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، فهو صدوق.
درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند کے حسن ہونے کی وجہ راوی "عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار" ہیں، جو کہ "صدوق" (سچے مگر حافظے میں معمولی کمی والے) ہیں۔
وأخرجه البيهقي 7/ 241 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی (7/ 241) نے ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2778 سے ماخوذ ہے۔