المستدرك على الصحيحين
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا باب: ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے
حدَّثَناه أبو الحسن بن منصور، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيَة، حدثنا كُردُوس بن محمد أبو الحسن القافِلَاني، حدثنا مُعلَّى بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ عمر بن الخطاب قام على مِنبره، فحمِد اللهَ وأثنى عليه، فقال: ألا لا تُغالُوا في صَدُقات النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله، كان أَولاكُم بها نبيُّكم ﷺ، والله ما زِيدَتِ امرأةٌ من نسائه ولا بناتِه على اثنتي عشرةُ أُوقيّة؛ وذلك أربع مئة درهم وثمانون درهمًا، الأُوقية أربعون درهمًا (2). فقد تواترت الأسانيدُ الصحيحة بصحَّة خطبة أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁، وهذا البابُ لي مجموعٌ في جزء كبير، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”آگاہ رہو! عورتوں کے مہر میں مبالغہ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ دنیا میں عزت یا اللہ کے ہاں تقویٰ کی بات ہوتی تو تمہارے نبی ﷺ اس کے سب سے زیادہ حقدار ہوتے، اللہ کی قسم! آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں بڑھایا گیا، اور یہ چار سو اسی درہم بنتے ہیں، جبکہ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔“
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اس خطبے کی صحت پر صحیح اسانید متواتر ہیں، اور اس باب کی تمام روایات میرے پاس ایک بڑے جزء میں جمع ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
وأخرج ابن أبي شيبة 4/ 188 عن جرير بن عبد الحميد، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، قال: السُّنَّة في النكاح اثنا عشر أوقيّة ونصف، فذلك خمس مئة درهم. ورجاله ثقات.
درجۂ حدیث: معلی بن عبد الرحمن کی وجہ سے یہ اسناد "انتہائی ضعیف" ہے، وہ "متروک" ہے اور بعض نے اسے "وضعِ حدیث" (حدیث گھڑنے) سے متہم کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: معلی اس طریق میں اکیلا ہے، جبکہ درست بات یہ ہے کہ یہ سعید بن المسیب کا اپنا قول ہے (موقوف ہے)۔
متابعات و شواہد: ابن ابی شیبہ (4/ 188) کی صحیح سند کے مطابق سعید بن المسیب کا قول ہے کہ نکاح میں سنت مہر ساڑھے بارہ اوقیہ (500 درہم) ہے۔