حدیث نمبر: 2731
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابنُ شُريح، أنَّ الوليد بن أبي الوليد أخبره، أنَّ أيوب بن خالد بن أبي أيوب الأنصاري حدثه عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "اكتُم الْخِطبةَ ثم توضأْ فأحسِنْ وُضوءَك، ثم صلِّ ما كَتَبَ الله تعالى لكَ، ثم احمَدْ ربك ومَجِّدْه، ثم قل: اللهمَّ إنك تَقدِرُ ولا أَقدِرُ، وتَعلمُ ولا أَعلمُ، وأنت عَلّامُ الغُيوب، فإن رأيتَ لي في فلانة - يُسمِّيها باسمِها - خيرًا لي في دِيني ودُنياي وآخرتي، فاقدُرْها لي، فإن كان غيرُها خيرًا لي في دِيني ودُنياي وآخرتي، فاقدُرْها لي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2698 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ایوب بن خالد انصاری اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کا پیغام پوشیدہ رکھو، پھر وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اتنی نماز پڑھو جتنی اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پھر اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور کہو: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةَ -يُسمِّيها باسمِها- خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْدُرْهَا لِي، فَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْدُرْهَا لِي» ”اے اللہ! تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، تو غیبوں کا خوب جاننے والا ہے، اگر تو میرے لیے فلاں عورت میں ۔ اس کا نام لے ۔ میرے دین، دنیا اور آخرت کے حوالے سے بھلائی دیکھتا ہے تو اسے میرے نصیب میں کر دے، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور میرے دین، دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2731
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه لِين كما سلف بيانه برقم (1195). ابن وهب هو عبد الله، وابن شُريح: هو حيوة.» [ترقيم الرساله 2731] [ترقيم الشركة 2713] [ترقيم العلميه 2698]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه لِين كما سلف بيانه برقم (1195). ابن وهب هو عبد الله، وابن شُريح: هو حيوة.
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند میں تھوڑا "لین" (کمزوری) پایا جاتا ہے جیسا کہ نمبر (1195) پر اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ راویوں میں ابن وہب سے مراد عبد اللہ بن وہب اور ابن شریح سے مراد حیوہ بن شریح ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2731 سے ماخوذ ہے۔