المستدرك على الصحيحين
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
استخارة خطبة المرأة يريد نكاحها باب: جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو اس کے پیغام کے وقت استخارہ کرنا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابنُ شُريح، أنَّ الوليد بن أبي الوليد أخبره، أنَّ أيوب بن خالد بن أبي أيوب الأنصاري حدثه عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "اكتُم الْخِطبةَ ثم توضأْ فأحسِنْ وُضوءَك، ثم صلِّ ما كَتَبَ الله تعالى لكَ، ثم احمَدْ ربك ومَجِّدْه، ثم قل: اللهمَّ إنك تَقدِرُ ولا أَقدِرُ، وتَعلمُ ولا أَعلمُ، وأنت عَلّامُ الغُيوب، فإن رأيتَ لي في فلانة - يُسمِّيها باسمِها - خيرًا لي في دِيني ودُنياي وآخرتي، فاقدُرْها لي، فإن كان غيرُها خيرًا لي في دِيني ودُنياي وآخرتي، فاقدُرْها لي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2698 - صحيحسیدنا ایوب بن خالد انصاری اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کا پیغام پوشیدہ رکھو، پھر وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اتنی نماز پڑھو جتنی اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پھر اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور کہو: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةَ -يُسمِّيها باسمِها- خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْدُرْهَا لِي، فَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْدُرْهَا لِي» ”اے اللہ! تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، تو غیبوں کا خوب جاننے والا ہے، اگر تو میرے لیے فلاں عورت میں ۔ اس کا نام لے ۔ میرے دین، دنیا اور آخرت کے حوالے سے بھلائی دیکھتا ہے تو اسے میرے نصیب میں کر دے، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور میرے دین، دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند میں تھوڑا "لین" (کمزوری) پایا جاتا ہے جیسا کہ نمبر (1195) پر اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ راویوں میں ابن وہب سے مراد عبد اللہ بن وہب اور ابن شریح سے مراد حیوہ بن شریح ہیں۔