المستدرك على الصحيحين
كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد— باغیوں کے ساتھ جہاد کے متعلق کتاب اور یہ جہاد کی آخری کتاب ہے
النَّهْيُ عَنْ قِتَالِ مَنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ باب: لا إله إلا الله کہنے والے سے قتال کی ممانعت
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا سليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أمّه: أنَّ غلامًا كان لبابَى (1)، وكان بابَى يضربه في أشياء ويُعاقِبه، وكان الغلامُ يُعادي سيِّدَه فباعه (2)، فلقيه الغلامُ يومًا ومع الغلام سيفٌ، وذلك في إمْرة سعيد بن العاص، فشَهَرَ العبدُ على بابَى السيفَ وتَفلَّت به عليه، فأمسكَه الناسُ عنه، فدخل بابَى على عائشة، فأخبرها بما فعل العبدُ، فقالت عائشة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن أشار بحديدةٍ إلى أحدٍ من المسلمين يريد قتلَه، فقد وَجَبَ دمُه". قالت: فخرج بابَى من عندها، فذهب إلى سيد العبدِ الذي ابتاعه منه فاستقالَه فأقالَه، وردَّ إليه، فأخذَه بابَى فقتلَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2669 - على شرط البخاري ومسلمعلقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”بابی“ نامی ایک شخص کا غلام تھا، ”بابی“ اسے مختلف باتوں پر مارتا پیٹتا اور سزا دیتا تھا، وہ غلام اپنے آقا سے دشمنی رکھتا تھا پس اس نے اسے بیچ دیا، ایک دن وہ غلام اسے ملا اور اس کے پاس تلوار تھی، یہ سعید بن العاص کی امارت کا دور تھا، اس غلام نے بابی پر تلوار سونت لی اور اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی، مگر لوگوں نے اسے پکڑ لیا، پھر بابی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں غلام کے اس فعل کی خبر دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کسی نے مسلمانوں میں سے کسی کی طرف لوہے (ہتھیار) سے اشارہ کیا جبکہ وہ اسے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو اس کا خون حلال ہو گیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بابی ان کے پاس سے نکلے اور اس غلام کے نئے مالک کے پاس گئے جس نے اسے خریدا تھا اور اس سے بیع منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، اس نے بیع ختم کر دی اور غلام انہیں واپس کر دیا، بابی نے اسے لیا اور قتل کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ام علقمہ سے دو راویوں نے روایت کی ہے، امام عجلی اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، اور ابن سعد کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے ان سے "احادیثِ صالحہ" (اچھی احادیث) روایت کی ہیں۔ اگرچہ وہ اس مخصوص حدیث میں تنہا (متفرد) ہیں، لیکن امام احمد بن حنبل نے ان کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ اگر حاملہ عورت (دورانِ حمل) خون دیکھے تو وہ نماز نہیں پڑھے گی۔
تائید: امام اسحاق بن راہویہ نے بھی اس مسئلے میں امام احمد کی موافقت کی ہے، جیسا کہ ابن قیم نے "زاد المعاد" (5/649) میں ان دونوں سے یہ موقف نقل کیا ہے۔
وأخرجه ابن حزم في "المحلى" 11/ 302 من طريق يحيى بن أيوب، عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حزم نے "المحلیٰ" (11/302) میں یحییٰ بن ایوب عن سعید بن ابی مریم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26294) عن عبيد بن أبي قرة، عن سليمان بن بلال، به. دون ذكر القصة، مع أنه أشار إليها بقوله: في قصة ذكرها.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" (43/26294) میں عبید بن ابی قرہ عن سلیمان بن بلال کے طریق سے روایت کیا ہے۔
نوٹ: انہوں نے یہاں مکمل قصہ ذکر نہیں کیا، البتہ "فی قصۃ ذکرہا" (ایک قصے میں جسے انہوں نے ذکر کیا) کہہ کر اس کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔
قوله: "فقد وجب دمه" أي: حلَّ للمقصود أن يدفعه عن نفسه ولو قتله، فوجب ها هنا بمعنى: حلَّ.
لغوی و فقہی توضیح: آپ ﷺ کے قول "فقد وجب دمہ" (پس اس کا خون واجب ہو گیا) کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص پر حملہ کیا گیا (المقصود) اس کے لیے یہ حلال ہو گیا کہ وہ اپنا دفاع کرے خواہ اسے حملہ آور کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہاں لفظ "وجب" کا معنی "حلّ" (حلال یا جائز ہونا) کے ہیں۔