المستدرك على الصحيحين
كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد— باغیوں کے ساتھ جہاد کے متعلق کتاب اور یہ جہاد کی آخری کتاب ہے
سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ . باب: میری امت میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہو گا
حدیث نمبر: 2683
أخبرَنيهِ أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه بالطابَرَان، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي بهَراةَ وعُبيد بن عبد الواحد بن شَريك ببغداد، قالا: حدثنا أبو الجُماهر محمد بن عثمان التَّنُوخي، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن عليّ الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال: "مَثَلُهم مَثَل رجل يَرمي رَميّةً، فيَتَوخّى السهمَ حيث وقعَ، فأخذه فنَظَر إلى فُوقِه فلم يَرَ به دسَمًا ولا دمًا، ثم نظر إلى رِيشه فلم يَرَ به دسَمًا ولا دمًا، ثم نظر إلى نَصْلِه فلم يَرَ به دسمًا ولا دمًا، كما لم يتعلَّقْ به شيءٌ من الدسَمِ والدمِ، كذلك لم يتعلَّقْ هؤلاء بشيءٍ من الإسلام" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2651 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو شکار پر تیر چلائے، پھر وہ تیر کو تلاش کرے جہاں وہ گرا ہو، پھر وہ اسے پکڑ کر اس کے «فُوق» (سوفار) کو دیکھے تو اسے وہاں چکنائی یا خون کا کوئی نشان نظر نہ آئے، پھر وہ اس کے پروں کو دیکھے تو وہاں بھی چکنائی یا خون کا نشان نہ پائے، پھر وہ اس کے «نَصْل» (پھل) کو دیکھے تو وہاں بھی اسے کچھ نظر نہ آئے، جس طرح اس تیر کے ساتھ چکنائی یا خون کا ذرا سا حصہ بھی پیوست نہیں ہوا، اسی طرح ان لوگوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف سعيد بن بَشير ضعيف يُعتبر به في المتابعات لكنه لم يتابع على ذكر أبي المتوكل علي بن داود الناجيّ في إسناده بين قتادة وأبي سعيد، فقد رواه الأوزاعي في الرواية السابقة وغيره عن قتادة عن أبي سعيد الخُدْري مباشرة دون واسطة، لكن روى أبو عَوانة بعضَ الرواية التي قبل هذه عن قتادة عن أبي نَضْرة المنذر بن مالك بن قِطْعة عن أبي سعيد الخُدْري، فالذي يغلب على ظننا أنَّ هذا هو الصواب في الواسطة، لأنَّ أبا عوانة ثقة حافظ، فروايته مقدَّمة على رواية سعيد بن بشير، والله أعلم، ويؤيده أنَّ سليمان التيمي روى نحو هذه الرواية التي هنا عن أبي نضرة عن أبي سعيد كما سيأتي.
درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے لیکن موجودہ سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سعید بن بشیر ضعیف ہے (متابعات میں اسے لیا جا سکتا ہے) لیکن قتادہ اور ابوسعید کے درمیان "ابو المتوکل الناجی" کا ذکر کرنے میں اس کی کسی نے تائید نہیں کی۔ امام اوزاعی وغیرہ نے اسے بغیر واسطے کے نقل کیا، جبکہ ابو عوانہ (جو ثقہ حافظ ہیں) نے قتادہ اور ابوسعید کے درمیان واسطہ "ابونضرہ" کو قرار دیا ہے۔ ہمارا غالب گمان یہی ہے کہ "ابونضرہ" والا واسطہ ہی درست ہے، کیونکہ سلیمان التیمی نے بھی اسی کی تائید کی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (4369)، وفي "مسند الشاميين" (2711) من طريق محمد بن بكار، عن سعيد بن بشير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (4369) اور "مسند الشامیین" (2711) میں محمد بن بکار از سعید بن بشیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 18/ (11416) و (11611)، ومسلم (1064) واللفظ له، والنسائي (8502) من طريق أبي عوانة، عن قتادة، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ: "تكون في أمتي فرقتان، فتخرج من بينهما مارِقة، يلي قَتْلَهم أَولاهم بالحق"، وهذه قطعة من حديث الأوزاعي عن قتادة المتقدم قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم (الفاظ ان کے ہیں) اور نسائی نے ابوعوانہ از قتادہ از ابونضرہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے، ان کے درمیان سے ایک خارج ہونے والا گروہ (مارقہ) نکلے گا، جنہیں وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہوگی"۔ یہ امام اوزاعی کی سابقہ حدیث کا ایک حصہ ہے۔
وأخرجه بنحو الرواية التي هنا: أحمد (17/ 11018)، ومسلم (1064) واللفظ له، من طريق سليمان التيمي، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد: أنَّ النبي ﷺ ذكر قومًا يكونون في أمته، يخرجون في فرقة من الناس، سيماهم التحالُق، قال: "هم شر الخلق - أو من شر الخلق - يقتلهم أدنى الطائفتين من الحق" قال: فضرب النبي ﷺ لهم مثلًا، أو قال قولًا: "الرجل يرمي الرميّة - أو قال: الغَرضَ - فينظر في النصل فلا يرى بَصيرة، وينظر في النَّضِيّ فلا يرى بَصيرة، وينظر في الفُوق فلا يرى بَصيرة".
وأخرجه بنحو هذه الرواية أيضًا أحمد 17/ (11291) و 18/ (11537) و (11579)، والبخاري (3610) و (6163) و (6933)، ومسلم (1064)، وابن ماجه (169)، والنسائي (8507) و (8508) و (11156)، وابن حبان (6741) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، وبعضهم قرن فيه بأبي سلمة الضحاك المِشْرَقيَّ.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/11018) اور مسلم (1064) نے سلیمان التیمی از ابونضرہ از ابوسعید خدری کے طریق سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایسی قوم کا ذکر فرمایا جو آپ کی امت میں ہوگی، وہ لوگوں میں تفرقے کے وقت نکلیں گے، ان کی علامت سر منڈوانا ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں (یا بدترین میں سے ہیں)، انہیں وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہو گا"۔
مثال: نبی ﷺ نے ان کی مثال اس شکاری سے دی جو شکار (یا نشانے) پر تیر چلاتا ہے، پھر وہ تیر کے پھل (النصل)، اس کی لکڑی (النضی) اور اس کے ناکے (الفوق) کو دیکھتا ہے مگر اسے وہاں خون کا کوئی نشان (بصیرہ) نظر نہیں آتا (یعنی وہ دین سے اتنی تیزی سے نکل جائیں گے کہ اثر تک باقی نہ رہے گا)۔ یہی روایت ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے بخاری، مسلم اور دیگر کتب میں بھی مروی ہے۔
والنَّضِيُّ: السهم قبل أن يُنحت إذا كان قِدْحًا. والبَصيرة: شيء من الدم يُستَدَلُّ به على الرَّمِيَّة.
لغوی تشریح: "النَّضِيُّ" سے مراد تیر کی وہ لکڑی ہے جسے تراش کر تیر بنایا جاتا ہے، اور "البَصيرة" خون کے اس نشان کو کہتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ تیر شکار کے جسم کے پار ہوا ہے یا نہیں۔
درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے لیکن موجودہ سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سعید بن بشیر ضعیف ہے (متابعات میں اسے لیا جا سکتا ہے) لیکن قتادہ اور ابوسعید کے درمیان "ابو المتوکل الناجی" کا ذکر کرنے میں اس کی کسی نے تائید نہیں کی۔ امام اوزاعی وغیرہ نے اسے بغیر واسطے کے نقل کیا، جبکہ ابو عوانہ (جو ثقہ حافظ ہیں) نے قتادہ اور ابوسعید کے درمیان واسطہ "ابونضرہ" کو قرار دیا ہے۔ ہمارا غالب گمان یہی ہے کہ "ابونضرہ" والا واسطہ ہی درست ہے، کیونکہ سلیمان التیمی نے بھی اسی کی تائید کی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (4369)، وفي "مسند الشاميين" (2711) من طريق محمد بن بكار، عن سعيد بن بشير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (4369) اور "مسند الشامیین" (2711) میں محمد بن بکار از سعید بن بشیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 18/ (11416) و (11611)، ومسلم (1064) واللفظ له، والنسائي (8502) من طريق أبي عوانة، عن قتادة، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ: "تكون في أمتي فرقتان، فتخرج من بينهما مارِقة، يلي قَتْلَهم أَولاهم بالحق"، وهذه قطعة من حديث الأوزاعي عن قتادة المتقدم قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم (الفاظ ان کے ہیں) اور نسائی نے ابوعوانہ از قتادہ از ابونضرہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے، ان کے درمیان سے ایک خارج ہونے والا گروہ (مارقہ) نکلے گا، جنہیں وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہوگی"۔ یہ امام اوزاعی کی سابقہ حدیث کا ایک حصہ ہے۔
وأخرجه بنحو الرواية التي هنا: أحمد (17/ 11018)، ومسلم (1064) واللفظ له، من طريق سليمان التيمي، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد: أنَّ النبي ﷺ ذكر قومًا يكونون في أمته، يخرجون في فرقة من الناس، سيماهم التحالُق، قال: "هم شر الخلق - أو من شر الخلق - يقتلهم أدنى الطائفتين من الحق" قال: فضرب النبي ﷺ لهم مثلًا، أو قال قولًا: "الرجل يرمي الرميّة - أو قال: الغَرضَ - فينظر في النصل فلا يرى بَصيرة، وينظر في النَّضِيّ فلا يرى بَصيرة، وينظر في الفُوق فلا يرى بَصيرة".
وأخرجه بنحو هذه الرواية أيضًا أحمد 17/ (11291) و 18/ (11537) و (11579)، والبخاري (3610) و (6163) و (6933)، ومسلم (1064)، وابن ماجه (169)، والنسائي (8507) و (8508) و (11156)، وابن حبان (6741) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، وبعضهم قرن فيه بأبي سلمة الضحاك المِشْرَقيَّ.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/11018) اور مسلم (1064) نے سلیمان التیمی از ابونضرہ از ابوسعید خدری کے طریق سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایسی قوم کا ذکر فرمایا جو آپ کی امت میں ہوگی، وہ لوگوں میں تفرقے کے وقت نکلیں گے، ان کی علامت سر منڈوانا ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں (یا بدترین میں سے ہیں)، انہیں وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہو گا"۔
مثال: نبی ﷺ نے ان کی مثال اس شکاری سے دی جو شکار (یا نشانے) پر تیر چلاتا ہے، پھر وہ تیر کے پھل (النصل)، اس کی لکڑی (النضی) اور اس کے ناکے (الفوق) کو دیکھتا ہے مگر اسے وہاں خون کا کوئی نشان (بصیرہ) نظر نہیں آتا (یعنی وہ دین سے اتنی تیزی سے نکل جائیں گے کہ اثر تک باقی نہ رہے گا)۔ یہی روایت ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے بخاری، مسلم اور دیگر کتب میں بھی مروی ہے۔
والنَّضِيُّ: السهم قبل أن يُنحت إذا كان قِدْحًا. والبَصيرة: شيء من الدم يُستَدَلُّ به على الرَّمِيَّة.
لغوی تشریح: "النَّضِيُّ" سے مراد تیر کی وہ لکڑی ہے جسے تراش کر تیر بنایا جاتا ہے، اور "البَصيرة" خون کے اس نشان کو کہتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ تیر شکار کے جسم کے پار ہوا ہے یا نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2683 سے ماخوذ ہے۔