حدیث نمبر: 2662
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثني محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يدعو فيقول: "اللهم أمتِعْني بسمْعي وبصري، واجعلْهما الوارثَ منّي، اللهم انصُرْني على عدوِّي، وأرِني فيه ثأْري" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2630 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، اللَّهُمَّ انْصُرْنِي عَلَى عَدُوِّي، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي» ”اے اللہ! مجھے میری سماعت اور بصارت سے (تا زندگی) فائدہ پہنچا اور ان دونوں کو میرا وارث بنا، اے اللہ! میرے دشمن کے مقابلے میں میری مدد فرما اور مجھے اس پر فتح نصیب فرما کہ میں اس سے اپنا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.» [ترقيم الرساله 2662] [ترقيم الشركة 2645] [ترقيم العلميه 2630]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.
درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن عمرو بن علقمہ لیثی کی وجہ سے "حسن" درجے کی ہے۔
وقد تقدم برقم (1939) من طريق عبد الرحمن المحاربي عن محمد بن عمرو.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1939) پر گزر چکی ہے جہاں عبدالرحمن محاربی نے اسے محمد بن عمرو کے واسطے سے نقل کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2662 سے ماخوذ ہے۔