المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
فَضِيلَةُ قِرَاءَةِ الِاسْتِغْفَارِ ثَلَاثًا باب: تین مرتبہ استغفار پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 2582
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن علي بن ميمون الرَّقّي، حدثنا محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا إسرائيل، عن أبي سنان، عن أبي الأحوص، عن ابن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ: مَن قال: أستغفرُ الله الذي لا إله إلَّا هو الحىُّ القيُّومُ وأتوبُ إليه، ثلاثًا، غُفِرتْ ذنوبُه وإن كان فارًّا من الزَّحْفِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2550 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تین مرتبہ یہ کہا: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، جو زندہ اور سب کو سنبھالنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں ، تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگ نکلا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح: أبو سنان: هو ضرار بن مرة، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشْمي. وأخرجه ابن خزيمة في التوكل كما في "إتحاف المهرة" 10/ 438 عن سعيد بن أبي زيد، عن الفريابي، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند مکمل طور پر صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ابو سنان" سے مراد ضرار بن مرہ ہیں، اور "ابو الاحوص" سے مراد عوف بن مالک جشمی ہیں۔
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے اپنی کتاب (التوکل) میں روایت کیا ہے جیسا کہ "اتحاف المہرہ" (جلد 10، صفحہ 438) میں موجود ہے، انہوں نے اسے سعید بن ابی زید کے واسطے سے الفریابی سے، اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1905) من طريق محمد بن سابق عن إسرائيل.
تفصیلِ روایت: یہ روایت اس سے پہلے حدیث نمبر (1905) کے تحت محمد بن سابق عن اسرائیل کے طریق (راستے) سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند مکمل طور پر صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ابو سنان" سے مراد ضرار بن مرہ ہیں، اور "ابو الاحوص" سے مراد عوف بن مالک جشمی ہیں۔
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے اپنی کتاب (التوکل) میں روایت کیا ہے جیسا کہ "اتحاف المہرہ" (جلد 10، صفحہ 438) میں موجود ہے، انہوں نے اسے سعید بن ابی زید کے واسطے سے الفریابی سے، اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1905) من طريق محمد بن سابق عن إسرائيل.
تفصیلِ روایت: یہ روایت اس سے پہلے حدیث نمبر (1905) کے تحت محمد بن سابق عن اسرائیل کے طریق (راستے) سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2582 سے ماخوذ ہے۔