المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِ اللَّهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَرَوَثُهُ وَبَوْلُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ. باب: جس نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا، اس کا کھانا، پینا، لید اور پیشاب سب اس کے میزان میں نیکیاں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2487
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثنا طلحة بن أبي سعيد، أنَّ سعيد المَقبُري حدثه عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "مَن احتَبَسَ فرسًا في سبيل الله إيمانًا بالله وتَصديقَ مَوعُودِ الله، كان شِبَعُه ورِيُّه ورَوثُه وبَولُه حسناتٍ في مِيزانِه يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2456 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں کوئی گھوڑا پالا، تو اس گھوڑے کا پیٹ بھر کر کھانا، اس کا سیر ہو کر پانی پینا، اس کا لید کرنا اور اس کا پیشاب کرنا سب قیامت کے دن اس کی میزانِ عمل میں نیکیوں کی صورت میں ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (4407) عن الحارث بن مسكين، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے حارث بن مسکین عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8866)، والبخاري (2853)، وابن حبان (4673) من طريق عبد الله بن المبارك، عن طلحة بن أبي سعيد، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
اہم نکتہ: یہ حدیث بخاری (2853) میں موجود ہے، لہٰذا امام حاکم کا اسے "مستدرک" (بخاری میں نہ ہونے والی حدیث) کے طور پر لانا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (8977)، والبخاري (2371)، ومسلم (987)، وابن ماجه (2788)، والترمذي (1636)، والنسائي (4387) و (4388)، وابن حبان (4672) من طريق أبي صالح، عن أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: یہی مفہوم ابوصالح عن ابی ہریرہؓ کے طریق سے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی مروی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (4407) عن الحارث بن مسكين، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے حارث بن مسکین عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8866)، والبخاري (2853)، وابن حبان (4673) من طريق عبد الله بن المبارك، عن طلحة بن أبي سعيد، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
اہم نکتہ: یہ حدیث بخاری (2853) میں موجود ہے، لہٰذا امام حاکم کا اسے "مستدرک" (بخاری میں نہ ہونے والی حدیث) کے طور پر لانا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (8977)، والبخاري (2371)، ومسلم (987)، وابن ماجه (2788)، والترمذي (1636)، والنسائي (4387) و (4388)، وابن حبان (4672) من طريق أبي صالح، عن أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: یہی مفہوم ابوصالح عن ابی ہریرہؓ کے طریق سے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2487 سے ماخوذ ہے۔